وادی کشمیرمیں اخروٹ کی صنعت تباہی کے دلدل میں

سیب صنعت کے بعد اخروٹ صنعت تباہی کے دہانے پر 30%بیوپاریوں نے اخروٹ کے کاروبار کو ترک کردیا بڑی تعداد میں اخروٹ کے درختوں کالوگ صفایاکررہے ہیں جومستقبل کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک عمل ہے ۔امریکن سیب اخروٹ کے لئے کسٹم ڈیویٹی میں کمی کے فیصلے نے وادی کشمیرکی اخروٹ کوبرُی طرح سے متاثرکردیا۔پچھلے کئی برسوں سے اخروٹ کی قیمتوں میں ستر فیصدکمی واقع ہوئی ،جبکہ تیس فیصد اخروٹ کی صنعت سے وابستہ بیوپاریوںنے اخروٹ کاروبار کو ترک کردیاہے اوران بیوپاریوں کامانناہے کہ پچھلے کئی برسوں سے ملک کی منڈیوں میںاخروٹ کی پزرائے نہیں ہوپارہی ہے او ربیرون ممالک سے جو اخروٹ درآمدکئے جاتے ہے وہ لوگوں کی توجہ کامرکزبنے ہوئے ہیں وادی کشمیرکااخروٹ مکمل طورپر متاثرہوا ہے ۔ادھر دیہی علاقوں میں اخروٹ کے درختوں کابڑے پیمانے پرصفایاہورہاہے اور لوگوں کاکہناہے کہ ہارٹی کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہائی بریڈ اخروٹ کے درختوں کوعام کرنے کے لئے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے اور زمانہ قدیم میںاخروٹ کے درخت وادی کشمیرمیں پائے جاتے ہیں یہی سلسلہ جاری ہے ہارٹی کلچر ڈیپارٹمنٹ کادعویٰ ہے کہ ہائی بریڈ اخروٹ کے درختوں کاعام لوگوں تک پہنچانے کے لیئے اقدامات تواٹھائے جاتے ہیں تاہم لوگ ابھی تک ان ہائی بریڈاخروٹ کے درختوں کولگانے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتے ہیں ۔عوامی حلقوں نے ہارٹی کلچر کے اس دعوے کوبے بنیاد مزاقہ خیزقراردیتے ہوئے کہا ایساکون ساکسان ہوگا جوہائی بریڈاخروٹ کے درختوں کواُگانے میں دلچسپی کامظاہراہ کرے ۔عوامی حلقوں کے مطابق زمانہ قدیم کے آخروٹ کے مطابق کشمیرکے اخروٹ کوملکی سطح پر وہ پزرائے نہیں مل پارہی ہے جسکی اسے ضرورت ہے اوربیرون ممالک کے آخروٹ درآمدکئے جارہے ہے جواعلی میعارکے ہوتے اور وہ گاہکوں کے لئے من پسند ہوا کرتے ہیں ۔