محکمہ موسمیات کا موسمی کلینڈر جاری،کسانوں اور مسافروں کیلئے ایڈوائزری
سرینگر/ یو این ایس // جموں و کشمیر میں موسم کی شدت برقرار ہے اور محکمہ موسمیات نے 7 فروری تک خراب موسم کی پیش گوئی جاری کی ہے۔ ہفتے کی ا علی الصبح وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں رات کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج کیا گیا، جبکہ معروف سیاحتی مقام گلمرگ ریاست کا سرد ترین علاقہ رہا جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات نے 31 جنوری اور یکم فروری کو جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں ابر آلود موسم کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش اور بالائی علاقوں میں برف باری، نیز تیز ہواؤں اور گرج چمک کا امکان ظاہر کیا ہے۔ 2 اور 3 فروری کو بھی کئی مقامات پر بارش اور بالائی علاقوں میں برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ 4 سے 6 فروری کی شام تک جزوی طور پر ابر آلود موسم رہنے اور 7 فروری کو چند مقامات پر ہلکی بارش یا برف باری کا امکان ہے۔ 8 سے 10 فروری کے دوران موسم کے خشک رہنے کی توقع ہے۔انتظامیہ نے کسانوں کو 7 فروری تک زرعی سرگرمیاں معطل رکھنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ برفانی تودے گرنے کے خدشے والے علاقوں میں رہنے والے افراد کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر سے قبل سرینگر،جموں قومی شاہراہ کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے ٹریفک کنٹرول رومز سے رابطہ کریں۔ اس دوران چلہ کورد کی اامد کے ساتھ ہی سردیوں مین بھی قدرے اضافہ دیکھنیء کو ملا۔محکمہ موسمیات کے مطابق، سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.1 ڈگری، پہلگام میں منفی 2.6 ڈگری جبکہ گلمرگ میں منفی 6.5 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ جموں خطے میں جموں شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 10.1، کٹرہ 9، بٹوٹ 4.2، بانیہال 0.8 اور بھدرواہ میں 0.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا۔یو این ایس کے مطابق اگرچہ 40 روزہ شدید سردی کے دورانیے چِلّہ کلاں کا اختتام 30 جنوری کو ہو چکا ہے اور دن کے درجہ حرارت میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم ہفتے سے 20 روزہ چِلّہ خورد کی اامد کے ساتھ ہئی ہلکی سردی کا آغاز ہو گیا ہے، اس کے بعد 10 روزہ چِلّہ بچہ کا دور متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق، اگرچہ چِلّہ کلاں کے بیشتر حصے میں معمول سے کم بارش اور برف باری ہوئی، تاہم اختتامی دنوں میں بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید برف باری نے مقامی آبادی کی تشویش کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ برف باری پہاڑی علاقوں میں قدرتی آبی ذخائر کو بھرنے میں مددگار ثابت ہو گی، جو موسمِ گرما میں دریاؤں، ندی نالوں اور چشموں کے پانی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔










