school opens in kashmir

وادی میں 31ماہ بعدروایتی درس وتدریس کی گونج

سری نگر//31ماہ کے طویل عرصہ بعدجب کشمیرمیں پرائمری سے آٹھویں جماعت تک زیرتعلیم طلبہ کیلئے اسکول کھل گئے تواسکولوںمیں جیسے بہار آگئی ،لیکن یہ کیابچے ایک دوسرے کوپہچان نہیں سکے ،کیونکہ لگ بھگ3 برس بعدوہ ایک دوسرے سے مل رہے تھے ۔جے کے این ایس کے مطابق معصوم بچوں کاایک دوسرے کونہ پہچاننا ایک المیہ ہی توہے ،کیونکہ ایک دوسرے کوپہچان کرہی وہ ایک دوسرے کیساتھ گل مل جاتے ہیں ۔طلباء کا کہنا تھا کہ ان کیلئے بہت سے دوستوں کو پہچاننا مشکل تھا کیونکہ انہوں نے اگست2019 کے بعد پہلی بار اُنہیں دیکھا تھا۔اس طویل بندش کے دوران، 5، اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے زیادہ تر بچے لگ بھگ ڈیڑھ برس تک آن لائن تعلیم تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔اوراسکے بعدمہینوں تک ان بچوں بچیوںکوآن لائن ایجوکیشن پرتکیہ کرنا پڑا۔31ماہ بعدجب لاکھوں بچے اسکولوں میں واپس آئے تواُنکے چہروں پرمسکراہٹ تھی ،وہ خوش تھے کہ اسکول آنے کاموقعہ ملا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ طویل بندش نے ان کی تعلیم کیساتھ ساتھ ان کے سماجی اور جذباتی تعلق کو بھی متاثر کیا ہے۔نجی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی پبلک اسکول سری نگرمیں زیرتعلیم9ویں جماعت کی طالبہ قریہ نے اپنے تاثرات کچھ یوں بیان کئے، ’’میں ابھی خود کو پہچان بھی نہیں پا رہی ہوں، اپنے کسی دوست کی توبات ہی نہیں، میں اپنا بس نمبر، اپنی کلاس بھول گئی ہوں،اب میں چاروں طرف دیکھ رہی ہوں کہ کسی ایسے شخص کو تلاش کروں جو مجھے یاد ہو‘‘۔قریہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے اسکول واپس آنے کے بعد بہت پرجوش ہیں لیکن اپنے پرانے دوستوں سے رابطہ ختم ہونے کے بعد ان سے بات چیت کرنے میں شرم محسوس کرتی ہیں۔شیخ مصطفی کا قد 5فٹ تھا جب وہ آخری بار اپنے اسکول میں آیاتھا۔ اس کے بعد سے اس کا قد ایک اور فٹ بڑھ گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ 31 ماہ سے زیادہ اپنے گھر تک محدود رہنے کے بعد سماجی رابطے کا طریقہ بھول گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ 31 ماہ بعد اپنے دوستوں اور اساتذہ کو دیکھنا تھوڑا سا عجیب لگتا ہے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ کیسے ملنا ہے۔ جب میں نے انہیں آخری بار دیکھا تو میں پانچ فٹ لمبا تھا۔ آج، میں چھ فٹ ہوں۔بازیلا6ویں کلاس میں تھی جب جولائی 2019 میں گرمیوں کی چھٹیوں کیلئے سکول بند کر دیا گیا تھا۔ آج وہ 9ویں کلاس میں ہے۔اس نے کہاکہ ناموں اور چہروں کو پہچاننا ایک مشکل کام تھا۔ ہم اتنے لمبے عرصے کے بعد اسکول میں واپس آئے ہیں۔ بہت ہنگامہ ہوا اور تھوڑی گھبراہٹ بھی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسکولوںمیں پہلے ہفتے کو’خوشی کاہفتہ‘کانام دیاگیا،اوراس لحاظ سے 8مارچ کویہ ہفتہ مکمل ہوگیا۔اسکول منتظمین کاکہناتھاکہ ہم چاہتے ہیں کہ بچے اسکولی ماحول سے مانوس ہوں اورتین سال کاجودبائو اُن کے اذہان اوردماغ پر ہے ،وہ کم ہوجائے ۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی خالی عمارتیں اس سارے عرصے میں خوفناک گھروں کی طرح تھیں۔ آج وہ بچوں کے مسکراتے چہروں سے زندہ ہو گئے ہیں۔ایک ٹیچر سید سمیرا نے کہا’’میں31 مہینوں کے بعد زندہ محسوس کر رہی ہوں۔ ہم زندہ ہیں۔ ہم، اساتذہ، بغیر کسی وقفے کے اسکول آتے تھے لیکن عمارتیں پریشان نظر آتی تھیں۔ اسکول کی عمارت خوفناک تھی۔ آج زندگی ہے اور ہم یہ زندگی چاہتے ہیں۔ اساتذہ نے کہاکہ مختلف وجوہات اورحالات کی بناء پر تقریباًتین سال اسکول بندرہنے سے صرف بچوں بچیوں کے دماغ اورنفسیات پرہی اثرنہیں پڑا،بلکہ اساتذہ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن اللہ کاشکرہے کہ اب اسکول پھرسے کھل گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اسکول ایک باغ کی طرح ہوتے ہیں ،جہاں بچے اسکے پھول ہوتے ہیں ۔اساتذہ کاکہناتھاکہ ہم صرف امید کرتے ہیں کہ تعلیم کو مزید نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔