وادی میں کھیت کھلیان سوکھ گئے

وادی میں کھیت کھلیان سوکھ گئے

وادی کشمیر میں اب یہ بات صاف ہوگئی کہ خشک موسم نے دھان کی پیداوار کوبرُی طرح سے متاثر کردیا ارگیشن کے پمپ ندی نالوں کے خشک ہونے کے بعد بیمار جب کہ کئی علاقوں میں عوام کے مطالبات کرنے کے لئے باوجود ارگیشن فلڈ کنٹرول محکمہ لفٹ ارگیشن پمپ نصب کرنے میں ناکام یہی وجہ ہے کہ سنگھ پورہ پٹن کے ہانجی نمل پر پھیل دھان کی فصل اب مویشیوں کے گھاس کے قابل نہیں رہی ۔ پچھلے دنوں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ارگیشن فلڈ کنٹرول محکمہ رواں برس کے دوران باغ مالکان او رکسانوں کوراحت پہنچانے میں برُی طرح سے ناکام ہوچکاہے ۔شمالی وسطی او رجنوبی کشمیر میں کسانوں نے یہ الزام لگایاکہ ان کے علاقوں میں نصب کئے گئے پمپ بیمار پڑے ہے اور انہیں پانی کھنچنے کی صلاحیت نہیں رہی ہے ۔ایک وجہ متعلقہ محکمہ کواپنے پمپ چلانے کے لئے ایندھن دستیاب نہیں اوردوسری وجہ پی ڈی ڈی محکمہ بجلی سپلائی کرنے سے عاری ہے اور بیس کے قریب لفٹ ارگیشن پنپوں کے بیمارہونے سے ان علاقوں میں دھان کی پنیری لگانے کے بعدکھیت کھلیان سیراب نہیں ہوئے اویہ دھان کی فصل تباہ وبرباد ہوگئی ۔کچھ ایسے بھی علاقے ہے جہاں فلڈ کنٹرول ارگیشن محکمہ خشک سالی کے باوجود کھیتوں کھلیانوں کوسیراب کرسکتا تھامگر ا س محکمہ نے غیرسنجیدگی لاپرواہی کااتنا بڑ امظاہراہ کیاکہ اور سینکڑوں ہیکٹئر اراضی ریگستانوں بنجر میں تبدیل ہوگئی ۔ہانجی نمبل سنگھ پورہ پٹن جوسرینگر سے 15کلومیٹرکی دوری پرہے میں چارسو ہیکٹئر اسے زیادہ اراضی پر پھیلی دھان کی فصل مویشی کے گھاس کے قابل نہیں اس علاقے کے لوگوں کامانناہے پچھلے پچاس برسوں سے وہ جموںو کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس علاقے میں فلڈ کنٹرول ارگیشن محکمہ کی جانب سے ایک لفٹ پمپ نصب کیاجائے تاہم متعلقہ ادارہ اورسرکار ایسا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اور آج اس کاخمیازہ اس علاقے کے کسانوں کو بگھتنے پرمجبور ہوناپڑتاہے کہ ان کی سال بھرکی کمائی مکمل طو رپرضائع ہوئی وہ دانے دانے کے محتاج بن گئے ۔صورتحال صرف ہانجی نمبل سنگھ پورہ کی ابتر نہیں بلکہ رفیع آباد ،بارہمولہ کے نبر کپوارہ ،بانڈہ پورہ ،اونتی پورہ ،ترال، شوپیاں کولگام کے ایسے درجنوں علاقے ہے جہاں دھان کی فصل تباہ وبرباد ہوگئی کسان خون کے آنسو روہے ہے اب ان کے کھیتوں میں کوئی فصل نہیں ہو جاتی وقت ہونے کے ساتھ بارش نہ ہونے کے باعث زمین میں نمی نہیں رہتی کسان باغ مالکان معاشی اوراقتصادی طو ربد حال ہوگئے اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بن گئے ۔