وادی میں چوری کی بڑھتی وارداتیں لوگوں کی نیندیں حرام

وادی میں چوری کی بڑھتی وارداتیں لوگوں کی نیندیں حرام

سرینگر// وادی کے اطراف و اکناف میں بڑھتی چوری کی وارداتو ں پر لوگوں میں شدید تشویش دوڑ گئی ہے ۔ آئے روز نقب زنوں کے خلاف کارروائیاں ہونے کے باجود بھی اس طرح کی وارداتیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کے شہر و گائو میں چوری کی بڑھتی وارداتوں نے لوگوںکی راتوں کی نیندیںاُڑادی ہے ۔ سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں آئے روز چوری کی وارداتیں رنماء ہورہی ہے جن میں نقب زن مکانوں اور دکانوں میں گھس کر قیمتی سامان اور نقدی اُڑالینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ نقب زن اب عبادت گاہوں کو بھی نہیں چھوڑ تے ۔ مساجد اور زیارت گاہوں کی سیفوں کو بھی توڑ کر وہاں سے نقدی رقم اُڑاکر رفوچکر ہوجاتے ہیں ۔نقب زنی کی بڑھتی وارداتوںکی وجہ سے لوگ سخت پریشان ہوگئے ہیں ۔ حال ہی میں کئی جگہوں پر چوروں نے آستانوں اور مساجد میں نقب لگاکر نقدی اُڑالی ۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں نقب زنوںنے کئی دکانوں اور رہائشی مکانوں کو بھی لوٹ لیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے اگرچہ نقب زنوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور چوری شدہ سامان بھی ضبط کیا جاتا ہے لیکن چوری کی وارداتیں کم ہونے کا نام نہیں لیتی ۔ ایک اندازے کے مطابق وادی میں ہر ماہ پچاس کے قریب چوری کی چھوٹی بڑی وارداتیں رونماء ہوتی ہیںجن میں سے اگرچہ اکثر کی رپورٹ درج ہوتی ہے لیکن متعدد چوری کی وارداتوں کی رپورٹ درج نہیں کی جاتی ۔ چوری کی بڑھتی وارداتوں کے سلسلے میں عوامی حلقوںنے پولیس کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ چوروں کا قلع قمع کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں تاکہ لوگ راتوں کو چین کی نیند سوسکیں۔