editorial

وادی میں مہنگائی اپنے شباب پر

عیدالاضحی کی تقریب سید سے پہلے ہی وادی کے بڑے شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں میں ناجائز منافہ خوری عروج پرسبزیوں کی قیمتیں ایک دفعہ پھر آسمان کے ساتھ چھورہی ہے کھانے پینے کی اشیاء بھی منہ مانگی رقم کے عوض فروخت ہورہی ہے صوبائی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔17جون کواقوام عالم میں عیدالاضحی کی تقریب سیعد عقیدت احترام تزق اہتشام او ردینی فرائض کے تحت منائی جارہی ہے فرزندان توحید عیدالاضحی کے تیاری میں لگے ہوئے ہیں تاہم وادی کشمیر جہاں معاشی اور اقتصادی بدحالی پوری طرح سے دکھائی دے رہی ہے بازاروں میں نہ گہماگہمی کئی اور نہ چہل پہل دکھائی دے رہی ہے ۔عیدالاضحی سے پہلے ہی سبزی فروشوں کریانہ فروشوں پھل فروٹ بیچنے والوں قصابوں، مرغ فروشوں، ملبوسات فروخت کرنے والوں نے اپنی من مانیاں شروع کردی ہے اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیاہے ۔عوامی حلقوںکامانے تو ہر ایک اشیاء ان کی قو ت خرید سے باہرہوتی جارہی ہے جسکے نتیجے میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کواپنی پیٹ کی آگ بجھانے میں مشکلوں کاسامناکرناپڑرہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق قیمتوں کواعتدال پررکھناسرکاکی ذمہ داری ہے اور ناجائز منافہ خوری کے خلاف اقداما ت اٹھانا سرکار کاحق ہے ۔تاکہ عام انسان راحت محسو س کرسکے او روہ بھوکے پیٹ سو ناسکے ۔تاہم وادی کشمیرمیں بازاروںمیں کر کہی بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے نہ کھانے پینے کی اشیاء کاجائزہ لیاجارہاہے اور نہ ہی نرخوں کے بارے میں پوچھاجارہاہے ۔کشمیروادی میں پچھلے ایک ہفتے سے سبزیوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیاہے جسپرعوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اپریل سے اکتوبر تک وادی کشمیر میں سبزیوں کی پیدوار حد سے زیادہ ہوا کرتی ہے اورملک کی کئی ریاستوں کو بھی سبزی فراہم کررہے ہے اس کے باوجود کشمیر وادی میںسبزیوں کی قیمتیں آسمان کوچھوناحیران کن ہے ۔ عوامی حلقوںکے مطابق گوشت چھوٹاہویابڑا بوئلرمرغ، پیرنٹ ،لائر ،ملبوسات اور دیگراشیاء کی قیمیتں مسلسل بڑھ رہی ہے اور متعلقہ ادارے ا سطرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیںعوام کواپنے رحم وکرم پرچھوڑ دیاگیاہے ۔عیدالاضحی کے موقعے پرنہ توبازروں کامعائنہ کیاجارہاہے اورنہ قربانی کے جانوروں کانرخ مقررکیاجارہاہے اگرچہ منڈیاں سج رہی ہے تاہم عوام کو بے یار ومدد گا رچھوڑ دیاگیاہے ۔