سرینگر//وبائی بیماری کورونا وائرس کے چلتے سنیچروارکو شہر سرینگر میں کورونا لاک ڈائون سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئیں ۔اسی دوران سیاحتی مرکز پہلگام میںبھی بندشیں عائد رہی اور کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں کورنا وائرس کے کیسوں میں اگرچہ گزشتہ کئی دنو ں سے کمی ریکارڈ ہو رہی ہے جس کے نتیجے میںکورونا کرفیو میں نرمی برتی گئی تھی تاہم جموں کشمیر کے کچھ اضلاع میں ہفتہ وار کورونا کوفیو جاری ہے جس کے چلتے شہر سرینگرسمیت جموں کشمیر کے دیگر سات اضلاع میںکرونا کرفیو کی واپسی سے معمولات زندگی بُری طرح سے متاثر رہی جبکہ وادی میں حساس علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں سخت بندشیں عائد رہیں ۔ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں بندشوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا جبکہ حساس مقامات پر سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے اور کسی کو بھی آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی ۔ ادھر عالمی وبائی کوروناوائرس کی دوسری لہر کے چلتے شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں سخت ترین اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ۔سرینگر کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ لالچوک اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کو بھی بندشیں رہی اور لوگوں کی نقل و حمل پر مکمل روک لگانے کیلئے فورسز اور پولیس نے جگہ جگہ رُکاوٹیں کھڑی کررکھی ہے ۔ کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اُٹھائے گئے اقدمات سے اگرچہ عام لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم لوگوںکا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ضروری ہے اورلوگ سرکارکے اس فیصلے پر اپنا بھر پور تعاون دینے کو تیار ہے ۔کورونا کرفیو کے چلتے لالچوک اور دیگر گردونواح کے علاقوںمیں صبح سے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بند رہی جبکہ تمام تجارتی مراکز اور دکانیں صبح سے ہی مقفل رہیں اس کے ساتھ ساتھ رستوران ، ہوٹل اورگیسٹ ہاو س بھی تالہ بند رہے ۔کورونا کرفیو کی وجہ سے سڑکوں اور کاروباری اداروں کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔ادھرجموں کشمیر کے مزید چھ پانچ اضلاع میں بھی لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے صبح ہی سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات کئے گئے جو ملحقہ علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کو قصبے میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ادھر جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام میں بھی بندشیں عائد رہی اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔










