چلہ کلان میں سرینگر اور دیگر اضلاع میں ان دنوں درجہ حرارت مسلسل منفی ریکارڈ کیا گیا ہے اورگذشتہ ایک ہفتہ سے سرد ترین راتوں کے دوران لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سردترین ایام کے دوران جہاں لوگ سردی سے ٹھٹھر گئے وہیں بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں ۔شدید سردی کی وجہ سے واٹرسپلائی کے نل منجمد ہوئے ہیں جس سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی ہے اورسرینگرسمیت بہت سی جگہوں پرتفصیلات فراہم ہوئی ہیںکہ لوگ پانی کی عدم دستیابی کو لیکربرف پگھلا کر پانی تلاش کرتے ہیں ۔اس دوران شہرودیہات میں فلش پوئنٹ جم گئے ہیں اور لوگ حاجت بشری کی فراغت کرنے کے حوالے سے بھی پریشان حال ہوئے ہیں کیونکہ ماضی میں بیت الخلاء گھروں سے باہر ہوا کرتے تھے اور مٹی کا استعمال کیا جارہا تھا لیکن اب لوگوں نے ان بیت الخلائوں کو سینٹری کے لئے ہٹادیا ہے ۔اب فراغت کیلئے کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے اور پانی کی عدم دستیابی سے ماحول گند آلود ہونے کا خطرہ لاحق ہوا ہے ۔اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔سردی کی شدت کے دوران اکثر وبیشتر علاقوں میںبجلی سرے س ہی غائب ہے اورگھپ اندھیرا چھایاہوا ہے ۔لوگ روشنی کے علاوہ الیکٹرانک آلات کو بروئے کار لانے سے محروم ہوگئے ہیں ۔شدید سردی کے دوران نزلہ زکام کی بیماریوں میں لوگ زیادہ مبتلا ہورہے ہیں ۔کورناوائرس کے بیچ نزلہ زکام کے شکار مریض پریشان حال ہوجاتے ہیں اوران کو وبائی بیماری کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔اس سردی کے ایام کے دوران اشیائے خوردنی یا تو بازاروں سے غائب ہیں یا ایسی گراں بازار ی ہوئی ہے کہ لوگ اشیائے خوردنی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔اس طرح سے وادی کی مجموعی صورتحال کافی ابتر ہے اورلوگ ان ایام کٹھن ایام کے دوران بے بس دکھائی دے رہے ہیں ۔اس سلسلے میں شہرودیہات کے لوگ نالاں وپریشان ہیں ۔ان کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ ان مشکل ایام کے دوران اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے اوربجلی وپانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے جدید مشینری کو بروئے کار لایا جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔










