editorial

وادی میں لیبارٹری چارجز متضاد، ادویات مہنگی، مریض بےبس!

ادویات کا استعمال انسان کے وجود سے ہی جڑا ہوا ہے اورآج کے دور میں دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہوگا جو دوائیاں لینے پر مجبور نہ ہوا ہو ۔اس طرح سے ادویات زندگی کا اہم جُز بنا ہوا ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ درد اور مرض میں افاقہ دوا سے ہی ممکن ہے ۔دوا کے بغیر ایک مریض درد سے نڈھال اور لاگر ہوجاتا ہے لیکن ان دوائیوں کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔مالی بدحالی کے شکارمریض قیمتی ادویات خریدنے سے قاصر رہتے ہیں۔المیہ ہے کہ کوئی نجی لیبارٹری یاکوئی دوا کمپنی تب نہیں چلتی ہے جب تک ان کے کام میں ڈاکٹروں کیلئے معقول کمیشن نہ ہو اور ان لیبارٹریوں کے منتظمین وملازمین ڈاکٹروں کی پشت پناہی حاصل کرتے ہوئے مریضوں سے من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ اب ڈاکٹر اپنے ساتھ منسلک کی ہوئی لیبارٹری یا ایکسرے پلانٹ جہاں ان کو کمیشن ملتا ہے کے بغیر کسی بھی لیبارٹری یا ایکسرے پلانٹ کے ٹسٹ تسلیم نہیں کرتا ہے اور مریضوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھارہے ہیں ۔آئے روز اس طرح کی اطلاعات وشکایات موصول ہورہی ہیںکہ نجی لیباٹریوں سے ٹسٹوں کے نام پر لوگوں کو لوٹا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ ہرٹسٹ پر الگ الگ چارجز مقرر ہے اور من مانی ریٹ لگا کر مریضوں کو لوٹنے کا عمل جاری ہے جبکہ کسی بھی لیبارٹری کی ریٹ ایک دوسرے سے ملتی جلتی نہیں ہوتی ہیں ۔یہ حال ہماری یہاں قائم شدہ لیبارٹریوں کا ہے کہ ٹسٹ کیلئے کو ئی معقول ریٹ لسٹ ہی ترتیب نہیں دیا گیا ہے جس کا جی جیسا چاہے ویسی ہی ریٹ لگائی جاتی ہے ۔جبکہ ادویات کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ مریض اور اس کے گھر والے دوائی لیتے لیتے کنگال ہوجاتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لیبارٹریوں پر ریٹ لسٹ جس میں ٹسٹوں کے مناسب قیمتیں درج ہوں ۔دستیاب رکھنا لازمی بنایاجائے اور ان کو جوابدہ بنایاجائے اور ادویات کی قیمتوں میں نرمی لانے کا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے ۔تاکہ عام مریضوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی نہیں ہوسکے گی ۔