آنگن وارڈی سینٹروں اسکولوں کو نل کے ساتھ جوڑنے اور جل فراہم کرنے محکمہ جل شکتی کے دعوے کو عوامی حلقوں نے بے بنیاد من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند قصبوں اور شہروں میں جل شکتی محکمہ نے ضرور آنگن وارڈی سینٹروں اور اسکولوں کو نل کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جب کہ دور دراز علاقوں میں جب لوگوں کوپانی دستیاب نہ ہوتو اسکولوں اور آنگن وارڈی سینٹروں کوشرب آب فراہم کرناجوئے شیر لانے کے مترادف ہے وادی کشمیرمیں جہاں چالیس فیصد لوگوں کوقلت آب کاسامناکرنا پڑرہاہے وہی 60%لو گ اب بھی ناصاف پانی استعمال کرکے زندگی گزار رہے ہیں ۔گزشتہ دنوں مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے جموں وکشمیر میں آنگن وارڈی سینٹروں اسکولوں کونل کے ساتھ جوڑنے اور شرب اب فراہم کرنے کی کاررروائی کو اطمنان بخش قرار دے کرکہاہ جموں وکشمیرمیں جل شکتی محکمہ نے اسکولوں آنگن وارڈی سینٹروں کونل کے ساتھ جوڑ کرایک مثال قائم کی ۔عوامی حلقوں نے جل شکتی محکمہ کے اس دعوے پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیںکہ جموں وکشمیرکے چندشہروں قصبوں میں جل شکتی محکمہ نے ایسا ضرورہو کیاہوگاتاہم دور دراز جموںو کشمیر کے سینکڑوں علاقے اب بھی نہ تو نل کے ساتھ جوڑے گئے ہے اور اگر جوڑے گئے ہے تو انہیں پینے کاپانی فراہم نہیں ہورہاہے۔ عوامی حلقو ںکے مطابق 75%واٹر سپلائی اسکیمیں لوگوں کے لئے اب وبال جان بنتی جارہی ہے کہی پانی نہیں تو کہی پائیپیں اس قدر ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوچکی ہے لوگ ان واٹرسپلائی اسکیمو ںکا پانی استعمال کرنے کے بجائے ندی نالوں سے بہنے والے ناصاف پانی کواستعمال کرنے میں کباہت محسوس نہیں کرتے ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق جموںو کشمیرمیں اب بھی چالیس فیصد آبادی کو پینے کاپانی دستیاب نہیں ہے اور مجموعی طور پر60% لو گ جموں وکشمیرمیں ناصاف پانی استعمال کرکے زندگی گزار رہے ہے ۔21اگست کو وادی کشمیرکے 25علاقوں میں قلت آ ب کے خلاف لوگوں نے ناراضگی ظاہر کی اور جل شکتی محکمہ کایہ دعویٰ کہ تمام آنگن وارڈی سینٹروں اسکولوں کونل کے ساتھ جوڑ کر جل فراہم یاگیاے کہاں تک صداقت پرمبنی ہے محکمہ اس سلسلے میں غلط بیانی سے کام لے لے رہاہے ۔










