سری نگر//وادی کشمیر کے مختلف ضلع مقامات اور قصبہ جات میں ہاٹیکلچر محکمے نے غیر معیاری جراسیم اور سکیب کش ادویات کاروبار کرنے والے ڈیلروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کر رکھی ہے جبکہ ضلع انتظامیہ نے بھی الگ سرے سے اپنی کاروائی تیز کردی ہے۔کے این ایس کے مطابق وادی کشمیر میں لگ بھگ 90فیصدی آبادی برائے راست فروٹ انڈسٹری سے وابستہ ہیں تاہم یہ میواہ صنعت گزشتہ کئی برسوں سے شدید مشکلات سے دو چار ہے۔ کئی ایک باغ مالکان نے بتایا کہ۔ ایک طرف غیر معیاری سکیب اور جراسیم کش ادویات کی وجہ سے میواہ باغات تشویشناک حد تک متاثر ہورہے ہیں اور باغ مالکان کو شدید مالی بحران سے دو چار ہونا پڑرہا ہے وہی دوسری جانب مقامی اور بیرون ریاست کی منڈیوں میں سیب کی قیمتوں میں کمی کے باعث فروٹ گروورسوں کو نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے۔اںہوں نے کہا کہ جراسیم اور سکیب کش ادویات کی روک تھام کے لئے اب کی بار ہاٹیکلچر محکمے کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ کے افسران متحرک نظر آرہے ہیں اور غیر معیاری جرسیم اور سکیب کش ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ کے این ایس نمائندوں کے مطابق ہاٹیکلچر محکمہ نے وادی بھر میں غیر معیاری اور زائد المیعاد جراثیم کش ادویات کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا اور اس حوالے سے ہاٹیکلچر اور ایگریکلچر محکمے کے افسران نے اس حوالے سے کئی اضلاع کا دورہ کیا اور وہاں پر مختلف سٹوروں اور دکانوں کا معائنہ کرنے کے دوران ملازمین کو ہدایت دی کہ وہ سبھی جراثیم کش ادویات فروخت کرنے والے دکانوں کا معائنہ کرکے وہاں پر غیر معیاری اور زائد المیعاد جراثیم کش ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ہاٹیکلچر محکمہ کے ایک اعلی آفیسر نے کے این ایس کو بتایا کہ غیر معیاری اور زائد المیعاد جراثیم کش اور سکیب کش ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا اب ناگزیر بن گیا ہے اور محکمہ نے اس کاروبار سے جڑے افراد پر نظر گزر رکھنے کی خاطر مختلف نوعیت کے اقدامات اْٹھائے ہیں اور کسی کو بھی غیر معیاری جراثیم کش ادویات فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھر شوپیان سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ شوپیان علاقہ سیب کی پیدوار میں بارہمولہ کے بعد دوسری نمبر پر ہے اور وہاں پر ضلع انتظامیہ نے غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا اور ضلع ترقیاتی کمشنر نے متعدد بار افسران کی میٹنگ طلب کرکے انہیں غیر معیاری جرسیم اور سکیب کش ادویات کا کاروبار کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کے احکامات دیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے منسلک محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مناسب فروخت کرنے والے مراکز کے ذریعے کسانوں کو کیڑے مار اور سکیب کش ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ جعلی کیڑے مار ادویات کی فروخت کو روکنے کے لیے فیلڈ اہلکاروں کو متحرک کریں اور افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ کسانوں میں بیداری پیدا کریں اور ان کو ان کی فصلوں کے ساتھ کیڑے مار ادویات کے بارے میں ان کے گھروں پر معلوماتی مواد تقسیم کریں۔اس دوران متعدد اضلاع میں انتظامیہ نے انفورسمنٹ ٹیموں کو بازاروں میں کیڑے مار ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے مارکیٹ کی مناسب چیکنگ اور معائنہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور جعلی کیڑے مار ادویات فروخت کرنے کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے اور ان کی دکانوں کو سیل کرنے کی بھی ہدایت دی۔کئی ایک باغ مالکان نے بتایا کہ اگرچہ اس سال ہاٹیکلچر اور سول انتظامیہ نے غیر معیاری جراسیم اور سکیب کش ادویات کی چیکنگ اور روک تھام کے لئے کاروائی شروع کی تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری طور پر اسکا تسلسل رکھنا وقت کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی میں غیر قانونی کاروبار کرنے والے ڈیلروں کو قانون کے گرفت میں لانے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور تب ہی غیر قانونی کاروبار کرنے والے لوگوں سے باغ مالکان کو چھٹکارہ مل سکتا ہے۔










