وادی میں شدید گرمی کے باعث عوام پریشان

وادی میں شدید گرمی کے باعث عوام پریشان

پانی اور بجلی کی قلت نے مشکلات میں اضافہ کر دیا

سرینگر//کشمیر میں جاری شدید گرمی کی لہرنے نہ صرف موسم کو سخت بنا دیا ہے بلکہ عوامی زندگی پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ پانی کی قلت، بجلی کی بار بار بندش، اور زرعی زمین کے سوکھنے جیسے مسائل نے خطے میں بحران کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ماہ جون کے آغاز سے وادی میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سری نگر میں درجہ حرارت 33.3°C جبکہ جموں میں 44.3°C* ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4سے 6 ڈگری زیادہ ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث،نہریں، چشمے اور زیر زمین پانی کے ذخائر خشک ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ پانی کی فراہمی میں مسلسل خلل پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ کے کام متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی دیہاتوں میں لوگ دور دراز علاقوں سے پانی بھر کر لانے پر مجبورہیں۔ حکومتی محکموں کی جانب سے پانی کی بچت کے لیے اپیل کی گئی ہے، مگر عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا جا رہا۔گرمی کی شدت کے ساتھ بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھنے کے باعث کئی علاقوں میں مسلسل بجلی بند ہو رہی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ دن بھر جاری رہتی ہے اور اکثر علاقوں میں رات کے وقت بھی بجلی بندہو جاتی ہے۔ ایک مقامی تاجر نے کہا، “گرمی میں بجلی نہ ہونے کے باعث نہ صرف کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ گھریلو زندگی بھی اجیرن ہو گئی ہے۔ بچے، بوڑھے اور بیمار افراد سب تکلیف میں مبتلا ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، مقامی آبادی کا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ ہر سال درپیش آتا ہے، مگر اس کے حل کے لیے کوئی مستقل منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ کشمیر کی زرعی معیشت شدید متاثر* ہو رہی ہے، کیونکہ پانی کی کمی اور گرمی کی شدت نے کھیتوں کو خشک کر دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے ان کے معاشی حالات خراب ہو رہے ہیں۔سیب کے باغات، چاول کے کھیت، اور دیگر زرعی زمین پانی کی کمی کے باعث سوکھ رہی ہے۔ ایک مقامی کسان نے بتایا، “ہم اپنی زمین کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، مگر پانی نہ ہونے کے باعث ہماری فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہوادی میں موسمیاتی تبدیلیاں واضح طور پر نظر آ رہی ہیں، جس کے باعث گرمی میں اضافہ اور پانی کی قلت بڑھ رہی ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی اور بجلی کے بحران کو فوری حل کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے اور کسانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔کشمیر میں گرمی کی شدت کے ساتھ عوامی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پانی اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو مزید پریشانیوں سے بچایا جا سکے۔