بالائی علاقوں میںتازہ برفباری،سرینگر جموں قومی شاہراہ ،مغل و سنتھن سڑکوں پر ٹریفک ہنو د بند
سرینگر/ یو این ایس/ / وادی میں جمعہ کو ہونے والی شدید برفباری، تیز ہواؤں اور بارش کے بعد ہفتہ کی صبح موسم میں بہتری دیکھنے کو ملی، تاہم رات کے درجہ حرارت منفی درجے میں رہا۔ بعض بلند پہاڑی علاقوں میں جمعہ کی رات تک ہلکی برفباری اور بارش جاری رہی، جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے معتدل برف پڑی۔یو این ایس کے مطابق جمعہ کے روز وادی کے بیشتر علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری ریکارڈ کی گئی، خاص طور پر شمالی اور بلند پہاڑی علاقوں میں، جبکہ میدانوں میں ہلکی سے معتدل برف پڑی۔ جمعہ کی رات مزید برفباری اننت ناگ،کولگام، شوپیان، بارہمولہ، بدگام، بانڈی پورہ اور کشتیار میں ریکارڈ کی گئی۔ راجوری شہر میں بھی برفباری کا نادر موقع دیکھا گیا، جسے ویسٹرن ڈسٹر بنس کے ساتھ منسلک سرد ہوا کے اثرات سے جوڑا گیا۔ حکام کے مطابق برفباری ایسے علاقوں میں بھی ہوئی جہاں تقریباً ایک دہائی سے برف نہیں پڑی تھی۔موسمی ماہرین نے بتایا کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران وادی میں زیادہ تر جگہیں خشک رہیں گی، لیکن ایک اور ویسٹرن ڈسٹر بنس 26 جنوری سے متوقع ہے، جس سے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ کچھ علاقوں میں طوفانی ہوا اور گرج چمک کے ساتھ شدید برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد 3 فروری تک موسم زیادہ تر خشک اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گلمرگ، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں، سب سے سرد مقام رہا جہاں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیاسونہ مرگ، میں، منفی 10.5 ڈگری، پاہلگام، جنوبی کشمیر میں، منفی 7.6 ڈگری، قازقند میں منفی 4.2 ڈگری، کوکرناگ میں منفی 6.2 اور کپوارہ میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ درج ہوا۔وادی اس وقت چلہ کلان کے زیر اثر ہے، جو انتہائی سرد موسم کا 40 روزہ دورانیہ ہے۔ اس دوران رات کے درجہ حرارت اکثر منفی درجے میں گر جاتے ہیں اور برفباری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ چلہ? کلان 21 دسمبر 2025 کو شروع ہوا اور 30 جنوری 2026 کو ختم ہوگا۔آمد و رفت متاثر رہی۔ جموںسرینگر نیشنل ہائی وے مغل روڈ، ایس ایس جی روڈ اور سنٹھن روڈ بند ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سڑکیں مکمل طور پر بحال ہونے اور محفوظ قرار دیے جانے تک سفر نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع یا ٹریفک کنٹرول یونٹس سے معلومات حاصل کریں۔ سرینگر ایئرپورٹ سے کم از کم سات پروازیں منسوخ رہیں، جس کی وجہ دہلی ایئرپورٹ پر نوٹم اور سرینگر میں غیر سازگار موسمی حالات بتائے گئے۔ سرینگر ایئرپورٹ پر پروازیں صرف اس وقت بحال ہوئیں جب رن وے سے برف ہٹا دی گئی۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ ایئر لائن سے تازہ ترین پرواز کی صورتحال معلوم کریں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر بھروسہ نہ کریں اور سڑکوں یا پروازوں کی صورتحال کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔یہ سردی و برفباری کا سلسلہ کشمیر میں سالانہ ‘چلہ کلان کے دوران معمول کی بات ہے، لیکن اس سال کی شدید برفباری نے بلند وادیوں کے ساتھ ساتھ نسبتا گرم علاقوں میں بھی درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔










