وادی میں شادی بیاہ تقریبات کا سیزن شروع ،اقتصادی بحران کے بیچ رسم ورواج میں قدرے کمی

وادی میں شادی بیاہ تقریبات کا سیزن شروع ،اقتصادی بحران کے بیچ رسم ورواج میں قدرے کمی

سرینگر //شادی بیاہ کی تقریبات دنیا کے ہرملک میں انجام دی جارہی ہیں کیونکہ یہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور ازواجی زندگی کا یہ پہلا پڑا سمجھا جاتاہے اور ہر جگہ پر اپنے رسم ورواج کے مطابق ہی یہ تقریبات نبھائے جاتے ہیں تاہم وادی کشمیر میں شادی کے حوالے سے رسوم ورواج عام ہیں جن پر رقم کثیر خرچ ہوجاتا ہے اور عمر بھر کی کمائی شادی کی تقریبات پر صرف ہوجاتی ہے اور ہر کسی انسان کی کمانے کاہدف اپنی یا بچوں کی شادی یا مکان تعمیر کرنا ہوتا ہے۔جو رسومات یہاں کی شادی بیاہی میں اپنائے جاتے ہیں وہ شاید ہی کہیں ہونگے۔یہاںکے وازوان میں ایسے اقسام بنائے جاتے ہیں جو اب ہر ایک کیلئے رواج ہی نہیں بلکہ مجبوری بن گئی ہے۔سال 2019ماہ اگست کے ابتدائی ہفتے تک یہاں شادیوں کی تقریبات پر بڑے بڑے وازوان ہوا کرتے تھے اور ان وازوانوں میں درجنوں قسم کے پکوان تیا رکئے جاتے تھے لیکن اس کے بعد ان میں کسی حد تبدیلی آئی تاہم سلسلہ اسی طرح جاری رہا لیکن کوروناوائرس کے تحفظ کیلئے نافذالعمل لاک ڈاون سے جب ہر طرح معمولات زندگی درہم برہم ہوئی اور اس دوران بیشتر لوگ اقتصادی بحران کے شکار ہوئے اورمجموعی طوراقتصادی بدحالی کے بعد شادی بیاہی کی تقریبات کی ٹرینڈ یکایک تبدیل ہوئی۔لوگ چاہئے غریب ہیں یا امیر اب مختصر تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں اور محدود لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے جہاں صاحب خانہ اپنے دوست واحباب کو معہ عیال دعوت دیتے تھے وہیں اب افراد خانہ میں سے ایک فرد کو دعوت دی جاتی ہے۔اس طرح سے افراد تعداد کو کم کرکے وازوان کو مختصر کرنے کا فیصلہ طے کیا جاچکا ہے۔اس سلسلے میں وادی کے کئی علاقوں کے معزز شہریوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے شادی بیاہ کی تقریبات میں نمایاں تبدیلیوں کے حوالے سے بتایا کہ نامساعد حالات اور کوروناوائرس کی مہاماری نے ہر سطح پر اقتصادی بحران کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں غریب عوام کی حالت ابتر ہوئی وہیں دولت مند افراد کابھی کافی نقصان ہوا اور ان کی حالت بھی تبدیل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ شادی بیاہ کی تقریبات کو محدود کرنے کی یہ بھی ایک وجہ ہے اور ہر کوئی حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اب پھونک پھونک کے قدم اٹھانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ معلوم نہیں ہے کہ کل کس طرح کے حالات سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں لوگ دھوم دام سے دعوت پر لوگوں کو بلاتے تھے اور درجنوں قسم کے پکوان وازوان میں رکھتے تھے وہیں اب ان اقسام کو محدود کیا جارہا ہے اور کم سے کم اس پر خرچ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب 5فیصدی لوگ ہی ماضی کی طرح اپنی ٹاٹھ باٹھ برقرار رکھے ہوئے ہیں جو آج بھی ان تقریبات پر بڑے وازوان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور لوگ رسوم ورواج کو بھی محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سماج میں کچھ افراد ایسے ابھی ہیں جو جہیز جیسی بدعت کو فروغ دینے کے در پے ہیں اور وہ لوگ عام انسانوں کا جینا مشکل بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ولیمہ ،مسند نشینی وغیرہ کے پروگراموں میں جہاں لوگوں کا اڑدھام ہوا کرتا وہیں اب کشمیری رواج کے مطابق 200ترامیوں کے بجائے 50سے 60تک محدود رکھی جاتی ہے جو خوش آئندہے کیونکہ یہ سبھی چیزیں فضول خرچی میں ہی شمار کئے جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ دوست واحباب کو دعوت پر بلانے میں کوئی حرج تو نہیں ہے البتہ فضول خرچی کا بہر کیف خاتمہ کرنا ہے۔جائز طریقے سے خرچ کرنے میںکو ئی مضائقہ نہیں ہے۔انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وازوان میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی وہیں جہیز وغیر ہ کے سامان کو محدود کیا جائے اور جائز طریقہ کار استعمال کیا جائے تاکہ فضول خرچی سے انسان نجات پائیں اور شادی یعنی نکاح آسان بن جائے گا