وادی میں سیاحوں کی آمد کی امیدیں روشن

سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس کی دوسری لہر کے بعد جموں وکشمیر میں سیاحت کو ایک بار پھر دھچکا لگا ۔شعبہ سیاحت اس خطے کی اقتصادی بحالی کا ایک اہم سبب مانا جاتا ہے ۔لیکن یہ شعبہ کافی حد تک متاثر رہا کیونکہ سیاحوں کی آمد محدود ہوگئی تھی ۔اب چونکہ بھارت کی دیگر ریاستوں اور زیر انتظام خطوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں کورونا معاملات اور اموات میں کمی واقع ہونے لگی اور حالات قدرے بہتر ہیں اور بہتر حالات میں سیاحوں کی آمد کی امیدیں بڑھ گئی ہیں ۔وادی کشمیر میں صحت افزا مقامات میں ان دنوں سیاحوں کی بے حد گہماگہمی رہتی تھی اور بیشتر ایام میں غیر ملکی ،غیر ریاستی یا مقامی سیاحوں کو ہوٹلوں میں بیٹھنے کیلئے جگہ نہیں ملتی تھی اور وہ خیمے نصب کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے لیکن کوروناوائرس کی مہاماری کی وجہ سے جہاں سیاح ان صحت افزاء مقامات کی سیر کرنے سے قاصر رہے وہیں شعبہ سیاحت کے ساتھ براہ راست وابستہ افراد بشمول ہوٹل مالکان ،ہوٹل ملازمین ،شکارہ والے ،گھوڑے بان کا روز گار بُری طرح متاثر ہوا اوروہ اقتصادی بدحالی کے شکار ہوئے ۔لیکن اس اہم شعبے کومزید مستحکم بنانے کیلئے سرکاری سطح پر عدم توجہی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔اگرچہ شعبہ سیاحت کو دوام بخشنے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں لیکن وہ دعوے صرف زبانی خرچہ ہی ثابت ہوتے ہیں اور صحت افزاء مقامات میں دوبارہ سیاحوں کی آمد کو یقینی بنانے کئے لئے محکمہ سیاحت سرکار کی طرف سے ہدایات ملنے کا منتظر ہے۔اس ضمن میں گذشتہ دنوں کئی ٹیلی ویژن چینلوں اور اخباری نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے محکمہ سیاحت کشمیر صوبے کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر جی این ایتو نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کوڈ 19کی وجہ سے سب زیادہ شعبہ سیاحت متاثر ہوا ۔انہوں نے کہاہے کہ محکمے کی طرف سے ابھی بلڈنگ کیپسٹی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت شعبہ سیاحت سے وابستہ تمام افراد بشمول ہوٹل مالکان ، ہوٹل ملازمین ، شکارہ والے، گھوڑے بان اور دیگر متعلقہ افراد کی سو فی صد ٹیکہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت کے ملازمین کی سو فیصد ٹیکہ کاری پہلے ہی مکمل کی جاچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیپسٹی بلڈنگ کے ایک اور اقدام کے تحت سیاحت سے وابستہ چار ہزار افراد کو کووڈ پروٹوکال کے بارے میں تربیت دی جائے گی جن میں شکارہ والے، گھوڑے بان اور ڈرائیور وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمے کی طرفسے کشمیر کے پچیس صحت افزا مقامات پر صفائی سْتھرائی کا کام جاری ہے اور اس میں بلدیاتی اداروں اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ لوگ اپنا تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ جبکہ محکمہ ملک کے مختلف حصوں میں موجود سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد بشمول ٹیور اینڈ ٹرول اوپریٹرس کے ساتھ ویب نار وغیرہ کے ذریعے رابطے میں ہے تاکہ وقت آنے پر ان سے سیاحوں کو کشمیر کی سیر پر بیجنے کے لئے راضی کیا جاسکے ۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ملک اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کا استقبال کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے تاہم سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لئے سرکاری ہدایات کا انتظار ہے۔کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے شعبہ سیاحت سے وابستہ افراد نے بتایا کہ وہ مشکل حالات سے گذررہے ہیں ۔نہوں نے کہا کہ کوڈ کی وجہ سیاحتی شعبہ خسارے کا شکار ہوا جس کے نتیجے میںان کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب حالات قدرے ہیں اور سیاحت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے لیکن سرکاری طور کوئی توجہ مرکوز نہیں کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ محکمہ سیاحت کے منتظمین سیاحوں کی زیادہ سے زیادہ آمد کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم موجودہ انتظامیہ اس کی طرف خاص توجہ مبذول نہیں کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے صحت افزا مقامات میں قدرتی خوبصورتی اور خوشگوار ماحول سے سیاح لطف اندوز ہوجاتے ہیں اور اب سیاحوں کیلئے ان سیاحتی مقامات میں ماحول بالکل ساز گار ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے لفٹنٹ گورنر اور مرکزی سرکاری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیں تاکہ یہاں کاشعبہ سیاحت مستخکم ہوجائے اور اس شعبہ سے وابستہ افراد کا روز گار بحال ہوجائے ۔