انتظامیہ کی جانب سے افرادی قوت اور مشنری کوتیاری کی حالت میں رکھا گیا
سرینگر// وادی کشمیر میں سخت سردیاں شروع ہوچکی ہیں اگرچہ چالیس روزہ ’’چلہ کلان‘‘ ابھی باقی ہے لیکن رواں ماہ میں جو سردی محسوس ہورہی ہے اس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ رواں موسم سرماء شدید ہوگا جس سے لوگوں کو گوناگوں مشکلات درپیش ہوسکتے ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے سردیوں کیلئے افرادی اور مشنری قوت کو متحرک رکھا ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے برفباری کے بعد سڑکوں سے بر ف ہٹانے کیلئے مشینوں کو تیاری کی حالت میں رکھا ہے جبکہ اشیاء خوردونوش کی وافر مقدار میں سٹاک نہ صرف مرکزی گوداموں میں ذخیرہ کیا گیا ہے بلکہ ضلع صدر مقامات پر بھی اشیاء خوردنی کا سٹاک ذخیرہ کیا جاچکا ہے تاکہ اگر بھاری برفبای ہو جس سے گاڑیوں کی نقل و حمل محدود رہتی ہے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ میدانی علاقوں کے علاوہ بالائی علاقوں میں راشن ،گیس ، ادویات اور دیگر ضروری چیزوں کا ذخیرہ کیا جاچکا ہے ۔ یہ تیاریاں جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ہدایت پر کی گئیں ہیں ۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گزشتہ دنوں جموں اور سرینگر میں منعقدہ اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں افسران کو ہدایت دی کہ عوا م کیلئے ہر سہولیت بہم رکھی جانی چاہئے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ بجلی ، پانی کی بلاخلل سپلائی کیلئے بھی اقدامات اُٹھائیں کیوں کہ سخت برفباری کی وجہ سے بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوتا ہے ۔ انہوں نے محکمہ پی ڈی ڈی کو بھی ہدایت کی ہے کہ ورکشاپوں میں جو خراب ٹرانسفارمر پہنچے انہیں ترجیحی بنیادوں پر درست کیا جائے تاکہ لوگوں کوبجلی کے بغیر زیادہ وقت نہ گزارنا پڑے ۔ انہوںنے محکمہ فوڈ سپلائز کے افسران کو بھی ہدایت دی کہ ایسے علاقوں میں راشن ذخیرہ کیا جائے جہاں پر موسم سرماء میں پہنچنا ناممکن ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایل جی انتظامیہ لوگوں کو ہر ممکن سہولیات بہم رکھنے کی وعدہ بند ہے ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ڈائریکٹر ہیتھ سروس کشمیر کو بھی ہدایت دی کہ وہ برفباری کے دوران ہسپتالوں میں لوگوں کیلئے طبی خدمات مئیسر رکھنے کیلئے پیشگی اقدامات اُٹھائیں انہوں نے زور دیا کہ دور دراز علاقوں کے لئے بھی طبی خدمات کو مئیسر رکھنے کیلئے پہلے ہی اقدامات اُٹھائیں۔ انہوں نے جموں میں بھی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں افسران پر زور دیا کہ وہ دور دراز علاقوں خاص کر سرحدی علاقوں میں لوگوں کیلئے تمام تر سہولیات بہم رکھنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک کی بلا خلل نقل وحمل پر بھی زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے نمٹنے کیلئے مشنری اور افرادی قوت کو تیاری کی حالت میں رکھیں ۔ جموں سرینگر قومی شاہراہ اکثر سردیوں میں برفباری اور شدید بارشوں کی وجہ سے ٹریفک کیلئے بند رہتی ہے کیوں کہ شاہراہ پر پھسلن ہونے اور چٹانیں اور پسیاں گرآنے کی وجہ سے سفر کرنا ناممکن بن جاتا ہے ۔ اگرچہ ماضی کے نسبت آج کل شاہراہ کافی بہترحالت میں ہے لیکن اس کے باوجود بھی موسمی صورتحال کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی میں خلل پڑ جاتا ہے ۔ سرینگر جموں شاہراہ کے متبادل کے طور پر مغل روڑ کو تو کھول دیا گیا ہے لیکن اس روڑ پر بھاری برف گرتی ہے اور یہ قریب دو ماہ تک بند رہتی ہے ۔ اب مودی سرکار نے اودھمپور سے سرینگر تک ریل چلانے کا عمل شروع کیا ہے اور اس منصوبے پر کئی برسوں تک کام جاری رہا اور اب بالآخر سال 2025 میں ریل شروع ہونے کا امکان ہے اگر یہ ریل چالو ہوجاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ یہ ہر موسم میں چلتی رہے گی کیوں کہ جہاں جہاں پر ٹریفک میں رُکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں ان جگہوں پر نئی ٹنلوں کی تعمیر ہوئی ہے اور اس طرح سے سرینگر سے اودھمپور ریل بلا خلل اپنا سفر جاری رکھے گی ۔ اس ریل کے چالوہونے سے نہ صرف عام لوگوں کو فائدہ ملے گا بلکہ کاروباریوں کیلئے یہ کافی سود مند ہوگی کیوں کہ وہ دلی ، پنجاب، اور دیگر شہریوں سے براہ راست سرینگر تک ایک ہی ریل میں بیٹھ کر سفر کرسکتے ہیںخاص طور پر میو ہ بیوپاریوں کیلئے یہ ریل بہتر ثابت ہوگی اور صرف چند گھنٹوں میں ہی وہ ملک کی کسی بھی منڈی تک اپنا مال پہنچاسکتے ہیں ۔ ریل کے ذریعے جموں سے سرینگر کا صفر صرف 5گھنٹے کا ہوگا صبح اگر پانچ بجے ریل میں بیٹھیں گے تو صبح دس بجے سرینگر میں ہوں گے ۔ اس اقدام سے سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگا اور سب سے بڑی بات سرینگر جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کا دبائو کم ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ ہوائی سفر بھی سستا ہوگا ۔ یہ ریل زیادہ فائدہ مند سردیوں میں رہے گی جب سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحمل میں رُکاوٹ ہوگی تو بذریعہ ٹرین ملک کے ہر شہر کا سفر آسان ہوجائے گا ۔










