editorial

وادی میں بے راہ روی کا بڑھتا رحجان

وادی کشمیر کا ماضی اخلاقی اورمعاشرتی طور اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا تھا لیکن اب حالات نے کروٹ بدلی ہے کیونکہ آج کل وادی میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہوتا ہے جب نہ کسی نہ کسی دلدوز اور انسانیت سوز واقع پیش آنے کی خبریں اخباروں میں شائع اور سوشل میڈیا پر وائرئیل ہوتی رہتی ہیں ۔ ان دلدوز اور شرمناک واقعات کا یکے بعد دیگرے پیش آنے پر حساس طبقات سے وابستہ لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ۔ ان پیش آنے والے دلدوز اور المناک واقعات پرسماج کے حساس افراد نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشرتی تباہی میں ہم سبھی لوگ ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بے لگام ہوئے ہیں اور خوف خدا اور اخلاقی اقدار سے ناواقف ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اصل میں ہم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ والدین اس وقت اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہتے ہیں جب ان کو اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے اور وہ ان کو سدھارنے کے بجائے ان کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو بچہ ابتدائی طور ایک معمولی غلط اور ناجائز کام انجام دیتا ہے اور جوابدہ نہ بنانے پر وہ پھر بے حیائی اور بے شرم بن کرایسے غیر اخلاقی اور غیر انسانی کام انجام دیتا ہے کہ اس طرح کے کام حیوانوں سے بھی ممکن نہیں ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں معاشرے میں ایسی تباہی مچی ہے کہ اب یہاں انسانوں کا کھلے عام قتل کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات پیش آتے ہیں جس سے درد دل رکھنے والے انسانوں کے رونگھٹے کھڑا ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے اسکولوں میں اساتذہ نصابی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت کرتے تھے اوراس طریقہ کار سے ان میں بچپن سے ہی اخلاقی اقدارپیوست ہوجاتے تھے لیکن اب یہاں کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم یا فارغ التحصیل بچے ہلڑ باز اور بے حیائی کے کاموں میں ملوث دیکھے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکار رعایا کی اس حوالے سے آبادی نہیں چاہتی ہے کیونکہ حکومتوں کو اس طرح کے واقعات پیش آنے سے کوئی نقصان نہیں ہے ۔البتہ سماج کے لئے اس طرح کے غیر اخلاقی اور انسانیت سوز واقعات کا پیش آنا زہر قاتل ہیں ۔انہوں نے عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طوربچوں کی صحیح تربیت کرنے میں اپنا رول ادا کریں اور ان کو جوابدہ بنایا جائے جن میں والدین اوراساتذہ کو زیادہ رول نبھانا ہے تاکہ ہمارے سماج میںآئندہ اس طرح کے حیوان صفت نوجوانوں کوایسے دلدوز اور شرمناک واقعات کاانجام دینے کا موقعہ فراہم نہ ہوسکے ۔