سرینگر سے لیکرمژھل ،ٹنگڈار،ٹیٹوال اورگریز جیسے دورافتادہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کولیکربحرانی صورتحال پائی جاتی ہے جبکہ میٹراورغیرمیٹریافتہ علاقوں ،بستیوں اورکالونیوں میں رہنے والے بجلی صارفین کیلئے برقی رئوکی سپلائی کوعملاً شجرممنوعہ بنادیاگیا ہے۔۔ اہلیان وادی کو دن رات بجلی کٹوتی کا غیر معمولی سامنا کرنا پڑرہا ہے اور دن رات بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ سخت پریشان ہوچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہرسرینگر سے لیکر شوپیاں ، کولگام ، پہلگام ، کوکرناگ، اوڑی ، ٹیٹوال، کرنا ہ ، گریز بانڈی پورہکے علاوہ وسطی کشمیر کے بڈگام، گاندربل اور دیگر علاقوں میں کے علاوہ سرینگر اور دیگر قصبہ جات میں ماہ نومبر سے ہی بجلی سرکار دربار کے ساتھ باادب سرینگر سے اپنا بوریا بسترہ باندھ کر کہیں گھپائوں میں چلی جاتی ہے ۔ اور اہلیان وادی کو جب چاہئے اپنے نظر کرم سے بہرور کرتی ہے ۔سرینگر سے لیکرمژھل ،ٹنگڈار،ٹیٹوال اورگریز جیسے دورافتادہ علاقوں میں ماہ نومبرسے بجلی کی فراہمی کولیکربحرانی صورتحال پائی جاتی ہے جبکہ میٹراورغیرمیٹریافتہ علاقوں ،بستیوں اورکالونیوں میں رہنے والے بجلی صارفین کیلئے برقی رئوکی سپلائی کوعملاً شجرممنوعہ بنادیاگیا ہے اور ماہ نومبر سے اب تک بجلی فراہمی کی جوں کی توں صورتحال برابر جاری ہے ۔اہل وادی کیلئے بجلی ایک ایسی شے بن گئی ہے جس کو یہاں کے لوگ سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ تاہم کشمیرمیں عام صارفین کوکٹوتی کی لاٹھی سے جیسے ہانکاجاتاہے ،وہ حقوق صارفین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اب وادی کے صارفین مفت بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ اُسے زیادہ فیس اداکرتے ہیں جتنی کہ اُنھیں بجلی استعمال کرنے کوفراہم کی جاتی ہے۔وادی کے اطراف واکناف میں روزانہ لوگ سڑکوں اورشاہراہوں پرنکل کر بجلی کی عدم دستیابی ،عدم فراہمی ،کٹوتی شیڈول ،آنکھ مچولی اورکم وئولٹیج کیخلاف صدائے احتجاج بلندکرتے نظرآتے ہیں لیکن کوئی نہ توانکی سنتاہے اورنہ ہی ان کی شکایات یاتکالیف کاازالہ ہی کرتاہے ۔










