وادی میں بجلی اور آب کی قلت

وادی کشمیر میںدرجہ حرارت نے تنزلی اختیار کیاہے بیشترعلاقوں میں پانی کی پائیپیں منجمند ہونے سے لوگوں کوقلت آب کاسامنا ،بجلی کی عدم دستیابی صارفین کے لئے وبال جان پوری وادی سردی کی لپیٹ میں جس کے نتیجے میں بیماروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، جبکہ ماہرین نے ایک دفعہ پھرعارض قلب شوگر مریضوں بزرگوں بچوں سے تلقین کی کہ سردیوں کے ایام میں گھروں سے باہر نکلنے میںاحتیاط بھرتے اور اس بات کاخاص خیال رکھے کہ وہ کسی اور مرض کاشکار ناہوجائے ۔ماہرین نے گھروں میں ہیٹر ،گیس ،لکڑی بخاریوں کا استعمال کرنے والوں سے پھر تلقین کی کہ اپنے صحت کاخیال رکھے مسلسل ایسے آلات کا استعمال ناکرے تازہ ہوا بھی لے تاکہ انہوںنے مزیدامراض کاشکار نہ ہونے پڑے ۔ادھرمحکمہ موسمیات کے مطابق 24دسمبر تک موسم میں کسی بھی تبدیلی کے امکانات موجود نہیں ہے تاہم سولہ دسمبر سے بالائی علاقوں میں ہلکی سی برفباری او رمیدانی علاقوں میں بوندھا باندھی کے امکانات ہے جسے سردی کازور ٹوٹ جانے کے امکانات موجود ہے ۔ کشمیر وادی میںدرجہ حراست میںمسلسل گراوٹ آ تی جارہی ہے۔درجہ حرارت میںکمی ہونے کے باعث وادی کے طول ارض میں کئی طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑی ہے اورلوگوں کی ایک بڑی تعداد کو شفا خانوںکارُخ کرنے پرمجبور ہونا پڑ رہاہے۔ نزلہ ،بخار ،گلے کادرد ،لوگوں میںپایاجارہاہے اورپانی کی پائیپیں منجمندہونے سے لوگوں کوپینے کے پانی کی قلت کاسامنا کرنا پڑتاہے اگرچہ ابھی تک دریاجھیل منجمند تو نہیںہوئے ہے تاہم وادی کے بیشتر علاقوں میں جوزمین کے اوپرپائیپیں بچھائی گئی ہے وہ منجمدہورہی ہے او ردن میں جب درجہ حرارت میں کوء اص اضافہ نہیںہوپاتاہے تولوگوں کوقلرت ااب سے گزرنا پڑ رہاہے۔شدیدسردی اور درجہ حرارت میں کمی ہونے کی وجہ سے کشمیر وادی بجلی کی عدم دستیابی سے د وچار ہے جسے نتیجے میںصارفین کومزیدپریشانیوں سے گزرناپڑ رہاہے ایک طرف بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے او ردوسری جانب گھروں میں روشنی کے لئے متبادل انتظامات عمل میں لانے پڑ رہے ہیں ۔ عوامی حلقوں کے مطابق ماضی میںوادی کشمیرکو بجلی کی عدم دستیابی کاسامنا کرنا پڑتاتھا تاہم پھربھی لوگ گرم پانی استعمال کیاکرتے تھے جسکی اب کوئی گنجائش نہیں ۔ کشمیر وادی سردی کی لپیٹ میںآ نے کے باعث ماہرین نے عارض قلب میں مبتلا بیماروں بزرگوں بچوں حاملہ خواتین سے پھر ایڈوائزی جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ گھروں سے باہرنکلنے میںاحتیاط بھرتے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے دو ررہے اور گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک پہن کر نکلے جب کہ گھروں میں لکڑی گیس بخاریوں کااستعمال کم سے کم کرے تاکہ انہیں مزیدمشکلات سے ناگزرنا پڑے ۔ماہرین کے مطابق دمہ میں مبتلامریض اپنی صحت کاخاص خیال رکھے درجہ حرارت میں کمی آنے کے لئے جان لیواثابت ہوسکتی ہے اگروہ احتیاط نابھرتے ۔