درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ، باغبانی اور آبی وسائل کیلئے خدشات
سرینگر/یو این ایس/ وادی کشمیر میں اس سال فروری کا مہینہ غیر معمولی حد تک گرم رہا جس نے کئی دہائیوں کے موسمی ریکارڈ توڑ دیے اور ماہرین کو خطے کے موسمی توازن میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ موسمیاتی مبصرین کے مطابق وادی کے تقریباً تمام بڑے موسمی مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں فروری 2026 کو کشمیر کی موسمی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق آزاد موسمیاتی تجزیہ کار فیضان عارف کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق وادی کے میدانی علاقوں سے لے کر پہاڑی اور سیاحتی مقامات تک درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ عام طور پر برف باری اور سخت سردی کے لیے مشہور فروری کے مہینے میں اس مرتبہ دن کے اوقات میں موسم بہار جیسا ماحول محسوس کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 2016 میں قائم 14.9 ڈگری کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں درجہ حرارت 15.2 ڈگری تک پہنچ گیا، جبکہ شمالی کشمیر کے کپوارہ میں پارہ 14.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو ماضی کے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں بھی درجہ حرارت 13.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ سیاحتی مقام پہلگام میں 12.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی غیر معمولی حد تک گرمی محسوس کی گئی جہاں درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو اس مقام کے لیے ایک نیا ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق فروری کے دوران درجہ حرارت میں اس طرح کا اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک واضح علامت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے برسوں میں بھی یہی رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف برفانی ذخائر اور آبی وسائل پر پڑ سکتے ہیں بلکہ زراعت اور باغبانی کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کشمیر میں باغبانی معیشت کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر معمولی گرم سردیوں کے باعث میوہ دار درختوں کے قدرتی حیاتیاتی چکر میں تبدیلی آنے لگی ہے۔ کسانوں نے اطلاع دی ہے کہ بادام کے درختوں پر معمول سے پہلے شگوفے نکل آئے ہیں جو عموماً مارچ کے آغاز میں ظاہر ہوتے ہیں۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ہفتوں میں درجہ حرارت میں اچانک کمی، سرد لہر یا پالا پڑتا ہے تو ان نازک شگوفوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں پھول جھڑنے اور پیداوار میں کمی کا خدشہ بڑھ جائے گا۔باغبانی کے ماہر ڈاکٹر شبیر احمد وانی نے کہا کہ موسم سرما کے اہم ادوار کے دوران درجہ حرارت میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق درختوں کو اپنی قدرتی آرام کی مدت مکمل کرنے کے لیے مناسب سردی درکار ہوتی ہے، لیکن گرم موسم کے باعث یہ عمل متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر درجہ حرارت میں اچانک کمی یا پالا پڑتا ہے تو قبل از وقت نکلنے والے شگوفے متاثر ہو سکتے ہیں جس سے اس سال کی پیداوار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ادھر سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد کاکہ جی نے کہا کہ درجہ حرارت میں اچانک اضافے اور درختوں پر قبل از وقت شگوفوں نے فروٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کے مطابق اگر مارچ کے آغاز میں سرد لہر یا ڑالہ باری ہوئی تو سیب اور دیگر میوہ جات کی فصل کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا اثر براہ راست کسانوں اور منڈی کی معیشت پر پڑے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر زرعی حکمت عملی میں سائنسی بنیادوں پر تبدیلی لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے تاکہ کسانوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے اور باغبانی کے شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے۔










