اب تک مختلف اضلاع میں باضابط طور سرکیولر جاری کر دئے گئے
سری نگر// جموں و کشمیر انتظامیہ نے کشمیر صوبے کے صحافیوں کو اپنی شناخت اور پیشہ ورانہ تفصیلات مقررہ مدت کے اندر اپنے متعلقہ ضلعی اطلاعات دفاتر میں جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام میڈیا شناختی کارڈز کے غلط استعمال کو روکنے، جعلی نمائندگی اور مستند صحافت کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس حوالے سے اب بڈگام ،شوپیان اور پلوامہ کے ضلع انفارمیشن افسران نے سرکیولر جاری کر کے صحافیوں سے تفصیلات طلب کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق صحافیوں سے اپنا آدھار چارڈ، پین کارڈ، متعلقہ ادارے کا تقرری نامہ و رابطہ نمبر، تعلیمی اسناد، اور اْن میڈیا پلیٹ فارمز کے لنکس فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں جن اداروں کے ساتھ وہ وابستہ ہیں۔یہ مہم جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن کشمیر کے حکم نامے کے تحت شروع کی گئی ہے اور تمام ڈسٹرکٹ انفارمیشن دفاتر کو اس پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق، صرف وہی صحافی جن کی اس عمل کے ذریعے تصدیق ہو جائے گی کو ہی سرکاری تقریبات، پریس کانفرنسز اور وی وی آئی پی دوروں کی کوریج کی اجازت ہوگی۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کسی صحافی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ’’ذمہ دار اور مستند صحافت کو فروغ دینا‘‘ ہے۔ تاہم، بعض سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ آیا یہ اقدام میڈیا کی جانچ کے نام پر اس پر نگرانی کی نئی صورت تو نہیں!‘‘انتظامیہ نے میڈیا اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ غیر مستند یا غیر مصدقہ افراد سے خود کو علیحدہ کریں تاکہ میڈیا کی ساکھ اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔بدھ کے روز جنوبی کشمیر کے شوپیان اور جمعرات کے روزپلوامہ کی طرف سے باضابط طور اس حوالے سے سرکیولر جاری کیا گیا ہے جس میں صحافیوں سے مختلف قسم کے دستاویزات کو طلب کیا گیاہے۔










