وادی کے اطراف واکناف میں ناجائز منافہ خوروں کی من مانیاں عروج پر،انفورس منٹ ونگوں کی جانب سے بازاروں کامعائنے کی کارروائیاں بے معنیٰ مرغ فروشوں نے امور صارفین عوامی تقسیم کاری سے مقررکئے گئے نرخ کی دھجیاں اڑا ئی قصابوں نے عوام کودو دو ہاتھوں لوٹنے سے گریز نہیں کیابیکری والوں، ریڈی میڈ، گارمنٹس ،سبزی فروشوں نے آو دیکھانہ تاؤ منہ مانگی رقم گاہکوں سے وصول کرنے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیاعوام کوراحت پہنچانے کے تمام دعوے بے معنیٰ ثابت ہوئے ۔عیدالاضحی سے پہلے ہی ایک دن قصابوں مرغ فروشوں کی دوکانوں کے باہر لوگوں کاسیلاب اُمڑ پڑاتھابیکری کے دوکانوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ریڈی میڈ گارمنٹس اے ٹی ایم مشینوں میں لوگوں کاازدہام دیکھاجاتا تھامرغ گوشت سبزیاں بیکری ملبوسات خریدنے میں لوگ ایک دوسرے پرسبقت لے جانے میں مصروف تھے امیروں نے اچھی طرح سے اپنی دولت کی نمائش کی اور غریبو ںکے منہ سے آ ہیں اور آنکھوں سے آنسوبھی ٹپک پڑے بازاروں میں گہما گہمی چہل پہل دیکھنے کو ملی تاہم مجموعی طور پروادی کے طول ارض میں لوٹ کھسوٹ گراں بازاری کاسلسلہ جاری رہا۔سرکار نے بوئلرمرغ کانرخ 140مقررکیاتھا مگروادی کے کسی بھی قصبے شہر یادیہی علاقوں میں اس ریٹ پرمرغ دستیاب نہیں تھے 165-170روپے مرغ فروخت ہورہے تھے قصابوں نے چھ سوروپے کے حساب سے گوشت فروخت کیابیکری والے منہ مانگی رقم وصول کررہے تھے سبزیوں کی قیمتیں پہلے ہی آسمان کوچھورہے تھی اور ریڈی میڈ گارمنٹ کے باہر جس طرح سے لوگ نظرآتے تھے وہاںبھی عیدالاضحی کے موقعے پرعوام کوراحت پہنچنے غریبوں یتیموں بیواؤں کو مددفراہم کرنے کی جو تلقین کی جارہی تھی اس سے بھی نظراندازکیاگیا۔مجموعی طور پروادی بھر میں معاشی اوراقتصادی بدحالی کے باوجود گراں بازاری بلیک مارکیٹنگ ذخیرہ اندوزی ناجائزمنافہ خوری دیکھنے کو ملی اگرچہ عوامی تقسیم کاری کے چکنگ اسکارڈ بھی کی بازارں میں دیکھی گئی تاہم ان کی کارروائیاں بھی بے معنیٰ ثابت ہورہی تھی جرمانے کی رقم وصول کرنے کے ساتھ ہی چکنک اسکارڈ غائب ہوجاتے ہے اور ناجائزمنافہ خور اپنی کارروائیاں پھردہراتے تھے ۔










