مکانات کی چھتیں اْڑ گئیں، دیواریں منہدم ، درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں جمعرات کی شام سے چلنے والی شدید اور طوفانی ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تیز آندھی کے نتیجے میں درخت جڑ سے اکھڑ گئے، مکانات کی چھتیں اْڑ گئیں، دیواریں منہدم ہو گئیں، بجلی کے کھمبے گر گئے اور متعدد علاقوں میں بجلی سپلائی مکمل طور متاثر ہو گئی۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔یو این ایس کے مطابق سری نگر کے مہجور نگر علاقے میں جمعہ کی صبح ایک جم کی عمارت کی چھت تیز ہواؤں کے باعث اْڑ گئی، جس کے نتیجے میں سڑک پر ملبہ گر گیا اور ٹریفک کچھ وقت کیلئے معطل رہی۔ حکام کے مطابق فوری طور پر متبادل راستے فراہم کیے گئے اور بعد ازاں ملبہ ہٹا کر سڑک کو دوبارہ کھول دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اسی طرح کرن نگر سری نگر میں ایک رہائشی مکان کی چھت گرنے سے مرکزی سڑک بند ہو گئی، تاہم ایس ڈی آر ایف کی کوئیک ریسپانس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبہ صاف کیا اور ٹریفک بحال کی۔تیز ہواؤں کا اثر صرف سری نگر تک محدود نہیں رہا بلکہ وسطی، شمالی اور جنوبی کشمیر کے کئی اضلاع میں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ گلاب ڈاجی، برنار، مالواہ، اوبیرا اور خرپورہ سمیت کئی دیہی علاقوں میں مکانات کی چھتیں اْڑ گئیں جبکہ کئی مقامات پر چار دیواری اور گھروں کے حصے منہدم ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اچانک آنے والی آندھی نے شدید خوف پیدا کیا اور کئی خاندان ملبہ گرنے کے خدشے کے پیش نظر گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ گھریلو سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے اور متاثرین نے حکومت سے فوری سروے اور امداد کا مطالبہ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق آندھی کے باعث بجلی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ متعدد فیڈرز میں خرابی پیدا ہوئی کیونکہ درخت اور دھاتی ڈھانچے بجلی لائنوں پر گر گئے۔ محکمہ بجلی نے بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم تیز ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں مرمت کا عمل متاثر ہوا۔ بڈگام ضلع میں ایک افسوسناک واقعے میں چون گاؤں کے رہائشی بشیر احمد شدید زخمی ہو گئے جب ٹوٹی ہوئی بجلی کی تار سے ان کا رابطہ ہوا۔ انہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے کنڈ میں بھی ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں تیز ہواؤں کے دوران اخروٹ کے درخت کی شاخ گرنے سے 16 سالہ لڑکی رینو جان دختر منظور احمد بٹ شدید زخمی ہو گئی۔ وہ اپنے رشتہ داروں کے گھر اوریل کنڈ میں موجود تھی کہ اچانک شاخ ٹوٹ کر اس پر گر گئی۔ زخمی لڑکی کو فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق تیز ہواؤں کے دوران کئی شہروں اور قصبوں میں دکانوں کے سائن بورڈ، فلیکس بورڈز اور دھاتی ہورڈنگز اکھڑ گئے جبکہ ٹین شیڈز اور عارضی ڈھانچے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ سڑکوں پر بکھرا ہوا ملبہ، ٹوٹی ہوئی شاخیں اور لوہے کی چادریں پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کیلئے خطرہ بن گئیں، جس کے باعث متعدد بازاروں میں دکانداروں نے رات گئے اپنی دکانیں محفوظ بنانے کی کوشش کی۔محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے اور عوام کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ، پولیس اور ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور نمٹا جا سکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کمزور ڈھانچوں، بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی ہوئی تاروں سے دور رہیں اور کسی بھی نقصان کی فوری اطلاع متعلقہ محکموں کو دیں۔










