وادی میںشدید برفانی طوفان سے سڑک، ریل اور فضائی رابطہ بری طرح متاثر

15 گھنٹوں میں کئی اضلاع میں 5 فٹ تک برفباری،گلمرگ سمیت بالائی علاقوں میں تازہ برفباری

سرینگر// یو این ایس// وادی کشمیر میں جمعرات کی رات سے شروع ہونے والی شدید اور مختصر دورانیے کی برفانی طوفانی لہر نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ مختلف اضلاع میں صرف 15 گھنٹوں کے اندر غیر معمولی حد تک شدید برفباری ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں سڑک، ریل اور فضائی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ آزاد موسمی ادارے کشمیر ویدر کے مطابق پیر پنجال پہاڑی سلسلے سے متصل علاقوں میں برفباری کی شدت سب سے زیادہ رہی۔ ضلع شوپیان کے میدانی علاقوں میں ڈیڑھ سے تین فٹ جبکہ بالائی علاقوں میں5 فٹ تک برف جمع ہوئی، جو اتنے کم وقت میں غیر معمولی تصور کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق اسی طرح بڈگام، پلوامہ، کولگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور دیگر اضلاع کے بالائی علاقوں میں بھی 2سے 5 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین موسمیات نے اس موسمی لہر کو رواں موسم سرما کی سب سے شدید لہر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی تیز رفتار برفباری ٹرانسپورٹ، بجلی اور ضروری خدمات کیلئے سنگین خلل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر کپواڑہ ضلع کی کرناہ ویلی میں برفانی لکیر ایک ہزار میٹر سے نیچے آ گئی جبکہ سیماری–تیتوال بیلٹ میں2 انچ سے زائد برف ریکارڈ ہوئی، حالانکہ یہ علاقہ عام طور پر شدید سردیوں میں بھی برفباری سے محفوظ رہتا ہے۔ حکام کے مطابق یہاں ایک انچ برفباری بھی نایاب سمجھی جاتی ہے اور یہ صورتحال 2005 کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اْس پار مظفرآباد، جو تقریباً 740 میٹر بلندی پر واقع ہے، میں بھی تقریباً ایک دہائی بعد برفباری ریکارڈ ہوئی، جو اس موسمی نظام کے غیر معمولی پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔یو این ایس کے مطابق شدید برفباری کے نتیجے میں جموں،سری نگر قومی شاہراہ این ایچ 44 کو نیویوگ ٹنل کے اطراف بھاری برف جمع ہونے کے باعث دونوں سمتوں سے بند کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مغل روڈ، سری نگر،سونمرگ،گمری روڈ، سنتھن روڈ اور سری نگر،لہہ قومی شاہراہ بھی بند کر دی گئی ہیں۔ ٹریفک پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سڑکوں کی تازہ صورتحال صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔ برفباری کے باعث بانہال–بارہمولہ ریلوے سیکشن پر کئی مسافر ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، جس سے ریل رابطہ بھی متاثر ہوا ہے۔یو این ایس کے مطابق فضائی رابطہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور شدید برفباری و ناقص مرئیت کے باعث سری نگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام فلائٹ آپریشن مکمل طور معطل کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر تمام آمد و رفت کی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ متاثر ہونے والی ایئر لائنز میں ایئر انڈیا، انڈیگو، اسپائس جیٹ، آکاسا ایئر اور ایئر انڈیا ایکسپریس شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر 26 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں، جن میں دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، احمد آباد اور جموں کی پروازیں شامل ہیں، جبکہ مزید منسوخیوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے رابطہ کر کے تازہ معلومات حاصل کریں۔سری نگر شہر میں بھی رواں موسم سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی۔ شہر کے اپ ٹاؤن علاقوں میں تقریباً دو انچ جبکہ ایئرپورٹ کے اطراف تین سے چار انچ برف جمع ہوئی۔ سیاحتی مقامات میں گلمرگ میں دو فٹ سے زائد، سونمرگ میں چھ انچ اور پہلگام میں تین انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔ متعدد اضلاع میں برفباری کے ساتھ تیز ہواؤں نے بھی تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر درخت جڑ سے اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے گر گئے، چھتوں کو نقصان پہنچا اور بجلی لائنیں ٹوٹ گئیں، جس سے وادی کے کئی علاقوں میں بجلی سپلائی متاثر ہوئی۔ محکمہ بجلی کے مطابق بحالی کا عمل جاری ہے۔یو این ایس کے مطابق انتظامیہ اور پولیس نے صورتحال کے پیش نظر مختلف اضلاع میں کنٹرول روم اور ہیلپ لائنز قائم کر دی ہیں جبکہ اہم شاہراہوں اور شہری سڑکوں سے برف ہٹانے کیلئے مشینری اور عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ موسمی نظام جمعہ شام تک برقرار رہ سکتا ہے اور پیر پنجال، چناب ویلی اور جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں مزید شدید برفباری، تیز ہواؤں اور اولے پڑنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس دورانشمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے گلمرگ میں جمعرات کی شام دیر گئے تازہ برف باری شروع ہوئی، حکام نے بتایا کہ ایک مضبوط مغربی ڈسٹربنس نے جموں و کشمیر میں اثر ڈالا۔حکام نے مزید کہا کہ دیگر علاقوں، خاص طور پر اونچی جگہوں پر، کپواڑہ، بارہمولہ اور شوپیاں میں بھی تازہ برف باری ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ سری نگر سمیت وادی کے میدانی علاقوں میں کئی علاقوں میں بارش ہوئی، جو آخری اطلاعات تک جاری تھی۔ان کا کہنا تھا کہ تیز، تیز رفتار ہواؤں نے سری نگر سمیت کشمیر کے کئی مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔حکام نے بتایا کہ کئی مقامات پر درخت اکھڑ گئے ہیں، جبکہ ایسے علاقوں میں احتیاطی تدابیر کے طور پر بجلی منقطع کر دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے کہا تھا کہ وسیع پیمانے پر ہلکی سے درمیانی بارش/برفباری متوقع ہے، بشمول وادی کے میدانی علاقوں میں، چند مقامات پر موسلادھار بارش کے ساتھ۔اس میں کہا گیا ہے کہ موسمی نظام کی اہم سرگرمی جمعہ کو ہوگی کیونکہ 26 جنوری کو ایک اور مغربی ڈسٹربنس خطے کو متاثر کرنے کی توقع ہے۔