وادی میںخاموش ہوتا ہوا’کوزہ گراں‘ کا پہیہ

مٹی کے برتنوں کی صدیوں پرانی روایت بقا کی جدوجہد میں

سرینگر/یو این ایس// کشمیری گھروں کی روزمرہ ضرورت سمجھے جانے والے مٹی کے برتن آج خاموشی سے بازاروں اور گھروں سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ وادی میں کمہار گری(کوزہ گری)، جو ایک زمانے میں نہ صرف روزگار بلکہ تہذیبی شناخت تھی، اب جدید طرزِ زندگی، پلاسٹک اور دھاتی اشیاء کے بڑھتے استعمال کے باعث شدید زوال کا شکار ہے۔یو این ایس کے مطابق کشمیر کے مختلف اضلاع میں کام کرنے والے کمہاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مٹی کے برتنوں کی مانگ میں تقریباً 99 فیصد تک کمی آئی ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب بیشتر کاریگر روزمرہ استعمال کے برتن بنانے کے بجائے محض آرائشی اشیاء یا تہواروں سے وابستہ مصنوعات تک محدود ہو گئے ہیں، جبکہ کئی خاندان یہ پیشہ مکمل طور پر چھوڑ چکے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں اگرچہ کمہاروں نے کب کا یہ پیشہ ترک کیا تاہم پلوامہ، بانڈی پورہ اور دیگر علاقوں میں کمہار گری سے وابستہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہر گھر میں تھال بانے، کنگ، پانی کے مٹکے اور مٹی کے پیالے عام استعمال میں تھے، مگر آج ان کی جگہ پلاسٹک، اسٹیل اور ایلومینیم نے لے لی ہے۔ ایک بزرگ کمہار نے بتایا کہ کبھی لوگ برتنوں کے بدلے اناج دیا کرتے تھے اور خواتین گھروں میں جا کر یہ اشیاء فروخت کرتی تھیں، مگر اب خریدار ہی باقی نہیں رہے۔کوزہ گری سے وابستہ ایک کاریگر نے کہا کہ نئی نسل اس پیشے کو غیر یقینی آمدنی اور سخت محنت کے باعث اپنانے سے گریزاں ہے۔ ان کے مطابق، نوجوان بہتر روزگار کی تلاش میں دیگر شعبوں کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث یہ فن محض یادوں تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔تاہم، مکمل مایوسی کے باوجود کچھ کاریگر اب بھی اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرینگر اور سیاحتی مقامات پر آرائشی اشیاء ، دیے، مٹی کے کپ، چھوٹی شِکارا نما ساختیں اور ہوٹلوں کے لیے خصوصی دستکاری مصنوعات محدود پیمانے پر فروخت ہو رہی ہیں، جو اس فن کے لیے ایک کمزور مگر موجود سہارا ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت اور ماحول کے حوالے سے بڑھتی آگاہی مستقبل میں مٹی کے برتنوں کی اہمیت دوبارہ اجاگر کر سکتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف قدرتی اور ماحول دوست ہوتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ بعض ڈاکٹروں نے بھی مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانے اور استعمال کو بہتر قرار دیا ہے۔کمہاروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور ثقافتی ادارے اس قدیم فن کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں، جن میں تربیتی پروگرام، مارکیٹ تک رسائی، سیاحتی فروغ اور دستکاروں کے لیے مالی معاونت شامل ہو۔ یو این ایس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ دی گئی تو کمہار گری نہ صرف ایک ہنر بلکہ کشمیری تہذیب کی علامت کے طور پر دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔فی الحال، کشمیر کے کئی علاقوں میں کمہار کا پہیہ خاموش ہے، مگر کاریگروں کا ماننا ہے کہ مٹی سے جڑی یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی—یہ روایت آج بھی ہاتھوں کی لکیر، یادوں کی خوشبو اور تہذیب کی بنیاد میں زندہ ہے۔