nia

وائٹ کالر دہشت گردی میں ملوث افراد نے ملک کے اندرونی علاقوں میں حملوں کی پہلے ہی منصوبہ بندی کی تھی

راز فاش ہونے کے بعد دہلی لال قلعہ کے باہر خود کش حملہ کیا گیا /این آئی اے

سرینگر/ /اے پی آئی// وائٹ کالر دہشت گردی نے ملک کے اندرونی علاقوں میں حملوں کیلئے پہلے ہی منصوبہ بندی کر کے انصار انٹرم نامی تنظیم قائم کی تھی ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے حال ہی میں بے نقاب کئے گئے مبینہ وائٹ کالر دہشت گرد ماڈیول سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس کیس میں گرفتار ڈاکٹروں کو 2016سے ہی انتہا پسندی کی طرف مائل کیا گیا تھا اور انہوںنے مرکزی زیر انتظام علاقے اور ملک کے اندرونی علاقوں میں تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کیلئے منصوبہ بندی کر کے انصار انٹرم کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کی تھی ۔ جموں وکشمیر پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق این آئی اے کے زیر تفتیش حکام نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عمر النبی جو 10نومبر کو لعل قلعہ کے باہر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے دھماکے کے وقت اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھے نے 2016-18میں مختلف شدت پسند تنظیموں میں شامل ہونے کی ناکام کوشش کی تھی ۔تاحال شواہد کے مطابق ملزم ڈاکٹر مزمل غنی ، عمر النبی جو اس دھماکے میں مارے گئے نے عدیل راتھر اور اسکے بھائی مظفرر اتھر جو فی الحال مفرور ہیں کے علاوہ مولوی عرفان کاری ، عامر اور طفیل غازی اپریل 2022میں سرینگر کے ڈائون ٹاون علاقے عیدگاہ میں ملے تھے ۔ اس میٹنگ میں انہوںنے انصار انٹرم نامی تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ۔ این آئی اے کے مطابق عدیل کو تنظیم کا امیر مقرر کیا گیا ۔ مولوی عرفان نائب امیر اور غنی کو خزانچی کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ گرفتار ڈاکٹروں اور مبلغین نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ نئی تنظیم بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کیونکہ سرگرم دہشت گردوں کے ساتھ ان کے تمام روابط منقطع ہوچکے تھے ۔ میٹنگ میں ارکان کے کردار اور آپریشنل کوڈ بھی طے کئے گئے ۔ عمر نے کارڈی نیٹر کا کردار سنبھالا اور غنی کے ساتھ ملکر امور اور سامان کی خریداری کی نگرانی کی ۔ 2023میں گروپ نے ہریانہ کے سوبنہ اور نوا علاقوں سے کھاد حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ، عمر کی ہدایت پر فریدآباد کی ایک کیمیکل دوکان سے این پی کے جس سے اس تناظر میں پوٹاشم نائٹریٹ کہا گیا بھی خریدا گیا ۔ پوچھ تاچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ عمر نے انٹرنیٹ ویڈیوز دیکھ کر دیسی ساخت بم ، آئی ای ڈی بنانے کا طریقہ سیکھنے کی کوشش کی اور ٹرے ایسوٹین ، ٹرے پیرو ایکسائڈ (ٹی اے ٹی پی ) تیار کیا جو ایک خطرناک دھماکہ خیز مادہ سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں کئی حلقوں میں استعمال ہوچکا ہے ۔ حکام کے مطابق عدیل نے تنظیم کیلئے مزید ارکان تلاش کرنا شروع کئے اور جنوبی کشمیر سے دانش عرف جاثر نامی شخص کو شامل کیا ۔ عدیل دانش کو فریدآباد الفلاح یونیورسٹی کے احاطے میں کرایہ کے ایک مکان پر لے جایا گیا جہاں دونوں نے عمر اور غنی کو مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد تیار کرتے دیکھا، بعدازاں عمر نے دانش کو فدائین حملہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاہم دانش نے آخری وقت پر اپنے خراب معاشی حالت اور مذہبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کردیا ۔ 28سالہ ڈاکٹر عمر جو ضلع پلوامہ سے تعلق رکھتے تھے کو حکام اس نیٹ ورک کا سب سے زیادہ انتہا پسند اور قلیدی کردار قرار دیتے ہیں جس کے روابط کشمیر ، ہریانہ اور اتر پردیش تک پھیلے ہوئے تھے ۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ گاڑی میں نصب دیسی ساخت بم کے ذریعے بڑا دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے ۔ شواہد کے مطابق ان کا ابتدائی منصوبہ دارالحکومت یا کسی مذہبی اہمیت کے مقام پر وی بی آئی ای ڈی نصب کر کے فرار ہونا تھا تاہم سرینگر پولیس کی باریک بینی سے کی گئی تفتیش کے نتیجے میں کئی گئی گرفتاری اور دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے بعد منصوبہ ناکام ہوگیا جس کے بعد مبینہ طور پر لال قلعہ کے باہر قبل از وقت دھماکہ ہوا۔