سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس نے گذشتہ تقریباً دو برسوںکے دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیاہے اوراس وبائی بیماری کی زد میں آکر لاکھوں لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں جبکہ کروڑوں کی تعداد میں مبتلا ہوئے ۔دنیا کے دیگر ملکوں اور ریاستوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میںبھی اس مہلک وائرس نے ہزاروں افراد جانیں لیں اور اب تک 4211کوروناوائرس میں مبتلا ہوکر موت کے آغوش میں چلے گئے جبکہ متاثرین کی مجموعی 316629تک پہنچ گئی ہے ۔ذرایع کے مطابق کورونا مثبت معاملات میں اتار چڑھائو کا سلسلہ جاری ہے تاہم گذشتہ مہینوں سے حالات قدرے بہتر ہیں ۔اس سے اندازہ ہوا کہ اس خطے میں کوروناوائرس میں کمی آرہی ہے ۔جو خوش آئندہے ۔لیکن یہ بات واضح ہے کہ کورونا وائرس ختم نہیں ہوا ہے البتہ تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے نیوز ڈیسک سے طبی ماہرین کی جانب سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ کورونامعاملات کے مثبت معاملات سامنے آنے میں کمی خوش آئندہے تاہم کورونا وائرس برقرار ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک مثبت کیس تک خطرہ لاحق ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر یعنی جاری کردہ ایس او پیز کی عمل آوری میں کوئی اور کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں ۔کیونکہ یہ ایسی مہلک وباء جو احتیاطی تدابیر میں لاپرواہی سے زیادہ پھیل سکتی ہے کیونکہ اس پر مجموعی طور ابھی تک کسی ملک نے کنٹرول نہیں پایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کورونامخالف ٹیکہ کاری بھی جاری ہے اور ہر سطح پر ویکسین کرنے کو لازمی قرار دیا گیا اس ویکسین کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے تاہم ہر حال میں تب تک احتیاط کرنے کی ضرورت ہے جب تک نہ یہ وائرس سرے سے ہی ختم ہوجائے ۔ماہرین نے عام وخاص پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنانے میں کوئی لاپرواہی نہ برتیں اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سماج میں ایس او پیز کی عمل آوری کیلئے لوگوں کو پابند بنانے میں کوئی سمجھوتہ نہ کریں ۔










