نیکیوں کے موسم بہار رمضان کی آمد

سرفراز ثقافی

نیکیوں کا موسم بہار انے کو ہے۔موسم بہار میں جب کسی درخت میں پھل لگتے ہیں تو پھل انے سے پہلے درخت میں شادابی اور سرسبزی شروع ہوجاتی ہے ہمارے گھر کے سامنے شہتوت کاایک بڑا درخت ہے،ابھی کچھ پہلے پورا درخت بے برگ و بارتھا، شاخیں تھیں لیکن ایک پتہ بھی جسم پر نہ تھا ،ابھی چند روز پہلے ایسی تبدیلی ائی کہ ہزاروں کونپلیں نکل ا?ئیں مایوسی اور نامیدی کو دور کرنے کے لئے اقبال نے کہا تھا’
’کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی‘‘ پھر ابھی چند روز کا وقت گذرا تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں شہتوت کے کچے ہرے ہرے چھوٹے چھوٹے پھل لگ گئے اب صرف چند روز میں یہ پھل پک بھی جائیں گے لال لال عنابی قرمزی رنگ کے خوشنما، ذائقہ دار،میٹھے شیریں پھل ان سے لذت کام ودہن بھی ،صحت کے لئے دوا بھی،جس طرح سے شہتوت کا درخت میٹھے ذائقہ دارپھل دینے سے پہلے کو بیش ایک مہینہ کاوقت تیاری میں گذارتا ہے اسی طرح سے ایک مرد مومن رمضان کی بہار سے پورے طور پر مستفید اور متمتع ہونے کے لئے شعبان کا مہینہ رمضان کی تیاری میں گذارتا ہے شعبان کے مہینہ میںرمضان کی کلیاں کھلتی ہیں نیکیوں کے برگ وبار لگتے ہیں عبادت کے غنچے جلوہ پیرا ہوتے ہیں یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ داخل ہوتا ہے اور مرد مومن نیکیبوں اور عبادتوں کے پھول اور پھل سے ایک مرد مومن اپنا دامن مراد بھر لیتا ہے جوں جوں رمضان کے دن قریب آتے جاتے ،لقائے الہی کے اشتیاق میں آنحضور صلی اللہ علیہ کی تڑپ بڑھتی چلی جاتی۔ رمضان سے دو ماہ پیشتر رجب کے مہینہ ہی سے آپ کے ہاں رمضان کا تذکرہ شروع ہوجاتا
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرماتے کہ اکثر اس کے پانے کی دْعا فرماتے تھے اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے شوق و محبت سے ماہ رمضان کا استقبال فرماتے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مبارک مہینے کو خوش آمدید کہہ کر اس کا استقبال فرماتے اور صحابہ کرام سے سوالیہ انداز میں تین بار دریافت کون تمہارا استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا کوئی وحی اترنے والی ہے؟ فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : پھر کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’بے شک ا? تعالیٰ ماہ رمضان کی پہلی رات ہی تمام اہلِ قبلہ کو بخش دیتا ہے۔‘‘
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جیسے ہی ماہ رجب کا چاند طلوع ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا فرماتے
’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب، شعبان اور (بالخصوص) ماہ رمضان کو بابرکت بنا دے
ان تمام احادیث مبارکہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رمضان المبارک کا انتظار فرماتے عاشقان رسول کو بھی اپنی محبت کا ثبوت دینا چاہئے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے شعبان کی آخر ی تاریخ کو وعظ فرمایا اور رمضان کی آمد کی خبر دیتے ہوئے آ پ نے فرمایا
‘‘سنو! سنو! تم پر ایک مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے جو بہت بڑا اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ ا تعالیٰ نے اس کے روزے رکھنافرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام کو ثواب ٹھہرایاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کوئی نفلی نیکی بجا لائے گا تو وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ عام دنوں میں فرض کا ثواب ہوور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سینجات کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا مگر روزہ دار کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہیں ہوگی
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول ا?! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ (یہ ثواب پیٹ بھر کرکھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی شخص ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ کاپلادے تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دیگا۔یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور آگ سے آزادی عطا فرمائے گا۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو جن میں سے دو چیزیں ا? کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کراتے ہوئے پانی پلائے گا تو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائے گا جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشائے مبارک یہ تھی کہ شعبان کے مہینہ کو رمضان میں داخل ہونے کے لئے روحانی اور اخلاقی تربیت کرتے ہوئے گزارا جائے۔ لیکن رمضان کی آمد سے قبل روزے رکھنے چھوڑ دئے جائیں تاکہ فرحت و بشاشت اور صحت مندی کے ساتھ رمضان میں داخل ہوا جاسکے۔
ہمیں بھی اس ہی انداز میں رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہئیے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کو عبادات ذکر و ازکار میں گزارنے کی توفیق عطاء فرمائیں