new year

نیو ایئر نائٹ کی تباہ کاریاں اور مسلم معاشرہ!!!

مولانا عطائے رسول علیمی

ہجری سال کا آغاز ماہ محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو ہوتا ہے جب کہ عیسوی سال کی ابتدا یکم جنوری کو ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ غروب کے وقت تبدیل ہوتی ہے اور عیسوی تاریخ نصف شب یعنی رات 12 بجے۔ جوں جوں مسلمان اپنے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں توں توں ان میں اغیار کے رسم و رواج اور تہوار زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ اور یہ غیر شرعی و غیر اخلاقی حرکتیں نہ صرف ان کو دین اسلام سے دور کر رہے ہیں بلکہ دین کا باغی بنا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ نا عاقبت اندیش غیر محسوس طریقے سے باطل ادیان کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں رسم و رواج میں ایک نیو ایئر نائٹ ہے جس کی فحاشی و عریانی پر مبنی تقاریب دنیا بھر میں انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔ اور صد افسوس کہ غیر مسلموں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بھی ایک لا محدود تعداد شرکت کرتی ہے۔ تمام عیسائی ممالک اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ صرف نیویارک (امریکہ) کی تقریب میں ایک لاکھ کے قریب نوجوان شرکت کرتے ہیں۔
نیو ایئر نائٹ کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی!!
نیو ایئر نائٹ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔ برطانیہ کی “رائل نیوی” کے جوانوں کی زندگی کا اکثر حصہ بحری جہازوں میں گزرتا تھا اس لیے وہ لوگ اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرنے کے لیے مختلف تقریبات منعقد کرتے رہتے۔ انہیں تقاریب کے دوران یہ تہوار یعنی نیو ایئر نائٹ ایجاد ہوا۔ (British Royal Navy) سے نیو ایئر نائٹ دوسرے جہازوں تک پہنچی اور وہاں سے 1910ء میں “اینا ڈین” شہر کے ساحل پر منتقل ہوئی جہاں سے یہ فحاشی اور بے حیائی کا رسم و رواج دوسرے شہروں میں منتقل ہوتا گیا۔ اس وقت دنیا کے ایک سو انتیس ممالک میں نیو ایئر نائٹ منائی جاتی ہے۔ 1980ء تک یہ تقریبات صرف اور صرف یورپ تک محدود تھی لیکن 1980ء کے بعد یہ وبا عام طور پر پھیلنا شروع ہوا اور پھر دھیرے دھیرے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ بر صغیر میں بھی جڑ پکڑنے لگا۔
نیو ایئر نائٹ (New Year Night) کی تباہ کاریاں!!!
نیو ایئر نائٹ منانے کے نام پر بے حیائی اور بد تمیزی کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل تو کچھ زیادہ ہی ہر چیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ رقص و سرور کی ہوش ربا محفلیں بڑے ہی اہتمام کے ساتھ سجائی جاتی ہیں۔ جہاں دیکھیے وہیں شراب نوشی اور مختلف قسم کے نشے اور جوئے بازی کا مکمل طور پر انتظام ہوتا ہے۔ رات کے 12 بجتے ہی کروڑوں روپے آتش بازی میں جھونک دیے جاتے ہیں۔ ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ منچلے قسم کے نوجوان موٹر سائیکلوں سے سائلنسر نکال کر، اور کاروں میں لگے ہوئے اسپیکر پر کان پھاڑ آواز میں گانے لگا کر ٹولیوں کی صورت میں سڑکوں پر ادھم مچاتے اور لوگوں کا سکون برباد کرتے ہیں۔ کئی نوجوان تو ون ویلنگ (One Wheeling) کرتے ہوئے لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں۔ افسوس! اس امت کے کروڑوں روپیے صرف اور صرف ایک رات میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ خوشیاں منانے کے نام پر اللہ تعالی کی نافرمانیاں کر کے اپنے کندھوں پر گناہوں کا بوجھ مزید بھاری کیا جاتا ہے۔ اس رات میں کئی لوگ زہریلی شراب، ہوائی فائرنگ، ایکسیڈنٹ اور آگ میں جھلس کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ہر سال یکم جنوری کو شائع ہونے والی خبروں میں نیو ایئر نائٹ (NewYear Night) میں ہونے والے نقصانات کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔
نیا سال منانے کا اسلامی طریقہ!!
اب رہا یہ سوال کہ اگر ہم یہ سب نہ کریں تو پھر کس طرح سے نیا سال منائیں اور اسلامی تعلیمات کہاں تک ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ تو اس بات کا اندازہ اس طرح بھی لگا سکتے ہیں کہ ہر اسلامی اور عیسوی سال کی آمد پر ہم ایک دوسرے کو مبارک بادی دے سکتے ہیں اور دعائے خیر بھی کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے والا سال آپ کے لیے بابرکت ہو۔ سال کے اختتام پر ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنا محاسبہ نفس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہمیں اپنے گزارے ہوئے سال اور ان میں کیے گئے اعمال کے بارے میں ایک سرسری جائزہ معلوم ہوسکے کہ ہم نے کتنے نیک کام کیے اور کتنے گناہ کیے۔ ہم کون کون سی بری عادتوں کو ترک کرنے میں ناکام رہے اور کن نیکیوں کی عادت نہ ڈال سکے۔ ایسے موقع پر اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا مزید ایک اور سال کم ہو گیا ہے اور ہم اچھے یا برے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر سچی توبہ کر کے آئندہ سال کے حوالے سے اچھی نیتیں کرنی چاہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی والے کاموں سے بچیں گے اور ان شاءاللہ وہ کام کریں گے جس سے اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوں۔
مسلمانوں سے کچھ درد مندانہ گزارشات!!
مسلمانوں! خدارا اس پرفتن موقع پر ہوش سے کام لو اور اغیار کے رسم و رواج اور تہواروں سے خود کو محفوظ رکھو۔ خواہ نیو ایئر نائٹ ہو یا وائلنٹائن ڈے، بسنت میلہ ہو یا کوئی اور غیر مذہبی تہوار ان سے دور رہنے ہی میں ہمارے لیے بھلائی ہے۔ یہ دنیا میں بھی نقصان دہ ہیں اور آخرت کی خرابی کا باعث بھی۔ آخر کب تک ہم اغیار کے غلام بن کر زندگی گزاریں گے۔ کب تک ان کی پیروی کر کے دین ودنیا کو پامال کرتےرہیں گے۔ یاد رکھو! ہمارے دشمن (یہود و نصاری) بہت ہی عیار ومکار ہیں وہ یہی چاہتے ہی ہیں کہ مسلمان اپنے دین سے دور اور بیزار ہو کر مکمل طور پر ہماری غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیں مگر ان شاءاللہ عزوجل ایسا کبھی نہیں ہوگا ان کے بچھائے ہوے جال میں ہمیں ہرگز نہیں پھنسنا ہے اس کے لیے ہم حتی المقدور کوشش کرتے رہیں گے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: “اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ” (سورۃ المائدہ: ۵۱)
اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔” (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر ۴۰۳۱)
اس لیے ہمیں ان کے رسم و رواج اور طور طریقے کو ہرگز نہیں اپنانا چاہیے کیوں کہ اگر ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہے تو دنیا و آخرت میں ذلت ورسوائی ہمارا مقدر ہو گئی۔
حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “تمہارا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تم محبت کرتے ہو۔” (صحیح بخاری)
آئیے ہم سب مل کر یہ وعدہ کریں کہ ہم اپنے دین پر ضرور ثابت قدم رہیں گے اور غیروں کے رسم و رواج کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اپنی دنیا و آخرت کو کامیاب بنائیں گے۔
نئے سال (2025) کی آمد پر ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ مولیٰ اس آنے والے سال کو ہم سب کے لیے خیر و برکت، خوش حالی اور کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ مولیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ اور ہماری زندگیوں میں سکون، محبت، اور امن قائم فرما۔
نیا سال مبارک ہو، اللہ اسے ہم سب کے لیے باعثِ رحمت اور نعمت بنائے۔ آمین ثم آمین بجا ہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔