نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کے اندیشہ میں شدت:گوٹیرس

نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹرس نے مملکتوں کے پاس موجود 13 ہزار سے زائد نیوکلیئرہتھیاروں کے استعمال کے احتمال پرخبردار کرتے ہوئے نیوکلیئرہتھیاروں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی اپیل کا اعادہ کیا۔آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ نیوکلیئرہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے (TPNW) کے ریاستی فریق کے پہلے اجلاس میں شرکت کرنے والے گوٹریس نے ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ نیوکلیئرہتھیار ایک مہلک یاد دہانی ہیکہ بین الاریاستی تنازعات کو بات چیت اور تعاون کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے”، انہوں نے ان مہلک ہتھیاروں کو ترک کر نے کی ایک بار پھر اپیل کی ہے۔”سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کہ یہ ہمارا خاتمہ کر دیں آئیے ان مہلک ہتھیاروں کا قلع قمع کر دیں، ہیروشیما اور ناگا ساکی کے بیانک اسباق ہمارے ذہنوں سے مٹنے لگے ہیں۔دنیا بھر میں 13 ہزار سے زائد جوہری ہتھیاروں کے باعث اس سے پیشتر ہمارے ذہن و گمان میں بھی نہ ہونے والے خطرات کااحتمال موجود ہے۔جوہری تخفیف اسلحہ کے لیے اقوام متحدہ کے ممالک کی طرف سے دستخط کیے گئے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، گوٹیرس نے کہا،”یہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا کی خواہشات کی طرف ایک اہم مشترکہ قدم ہے۔ کیونکہ یہ معاہدہ نیوکلیئرہتھیاروں کے فروغ و آزمائش، نیوکلیئردھماکہ خیز آلات کی تیاری، حصول اور ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی لگاتا ہے۔نیوکلیئر ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ، جس کا مقصد نیوکلیئرہتھیاروں کے مالک امریکہ، روس، برطانیہ، چین، فرانس، ہندوستان، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود پوری دنیا میں نیوکلیئرہتھیاروں کو تباہ کرنا اور نئے ہتھیاروں پر پابندی لگانا ہے، کو 7 جولائی 2017 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 122 ممالک کی منظوری سے قبول کیا تھا۔