سری نگر//نیشنل کانفرنس صدر و پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انکشاف کیا کہ آج کل ورکروں کو خریدنے کی کوششیں کی جارہی ہے اور تکلیف پہنچائی جارہی ہے تاکہ وہ این سی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہوجائیں۔ کے این ایس کے مطابق سنیچر کو پارٹی صدر دفتر نوائے صبح میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس ہی وہ جماعت ہے جو لوگوں کو تشخص دلاتی ہے اور ان کو عزت دے سکتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پارٹی کو زندہ رکھنے کیلئے الیکشن ہونا بڑی چیز ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ان کی ساخت کیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ ’مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں مادۂ برداشت جو ہے، وہ غائب ہورہا ہے‘۔ انہوںنے کہ اگر کوئی شخص الیکشن میں نہیں آسکتا تو پھر وہ بغاوت کا نعرہ مارتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ جماعت میں یہ چیزیں ہوتی ہیں اور ان کو برداشت کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگرمیں کچھ نہ بن سکا تو وہ اپنی کشتی کو دوسرے گھاٹ پر لے جاتے ہیں ، یہ نہیں کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ اگر اُس کا ایمان نیشنل کانفرنس پر ہے تو اس کو اس جماعت میں ہر حال میں رہنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ’’ تم دیکھ رہے ہو کہ آج کل کوشش کی جارہی ہے کہ ورکروںکو خریدا جائے اوران کو عجیب عجیب تکلیف پہنچائی جارہی ہے تاکہ وہ نیشنل کانفرنس چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہوجائیں‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’’مجھے یاد ہے کہ بہت عرصہ سال قبل 1974میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر گیا تھا جہاں ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا اورمجھے یاد ہے کہ اس دوران وہاں ایک لڑکی اور غالباً اس کی عمرمشکل سے15سال کی ہوگی، وہ اٹھی اور تقریر میں کہاکہ نیشنل کانفرنس ایک مہم ہے، یہ خالی جماعت ہی نہیں ہے، یہ ہمارے دلوںمیں ہے اور کوئی اس کو ہمارے دلوں سے نہیں نکال سکتا‘‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ یہ اُس لڑکی کا بیان ہے جس نے نہ شیخ محمد عبداللہ یا مجھے نہیں دیکھا تھا ۔ اپنے مزاحیہ انداز میںڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’میں جوان لگ رہا ہوں لیکن میں بوڑھا ہوں اور اس عالمی وبا کے دوران ماسک کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی جماعت سے نکل رہا ہے تو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔










