متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا،ؤس بوٹس کمرشل انفراسٹرکچرہے:اے ڈی سی سرینگر
سری نگر//سرینگر کے نگین جھیل میں کل دیر رات لگنے والی تباہ کن آگ میں کم از کم 7 ہاؤس بوٹس جل کر خاکستر ہو گئے، جس سے کروڑوں کی املاک جل کر راکھ ہو گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق فائر اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے کو بتایا کہ جیسے ہی انہیں آگ لگنے کی اطلاع ملی، چھ فائر ٹینڈرز اور چھ فائر انجنوں کو آگ بجھانے کے لیے کام میں لگا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چار ہاؤس بوٹس پہلے ہی تباہ کن آگ کی لپیٹ میں آچکی تھیں اور ان کے آدمیوں نے آگ بجھانا شروع کردی اس سے پہلے کہ یہ دوسری ہاؤس بوٹس کو لپیٹ میں لے لیا۔تاہم، آگ نے مزید 3 ہاؤس بوٹس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس واقعے میں کم از کم سات ہاؤس بوٹس مکمل طور پر جل گئے، جن میں رائل پیراڈائز، انڈیا پیلس، جرسی، للی آف دی ورلڈ، نیو مہاراجہ پیلس، ینگ سوئفٹ اور فلورا شامل ہیں”۔انہوں نے مزیدکہا کہ انہوں نے پولیس کو واقعہ کی تحقیقات اور آگ لگنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔دریں اثنا، ہاؤس بوٹ کے مالکان میں سے ایک نے کے این ایس کو بتایا کہ ان کے پاس ان ہاؤس بوٹس کے علاوہ کوئی سائیڈ بزنس یا آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “اب جب کہ ہمارا ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے، یہ انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ ہمیں دوبارہ آباد کرے۔”ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اور اگر حکومت ان کی تلافی نہیں کر سکتی تو کم از کم انہیں کم سود پر قرضے فراہم کرے، تاکہ وہ اپنی ہاؤس بوٹس دوبارہ بنا سکیں۔رابطہ کرنے پر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر سری نگر سید حنیف بلکی نے کو بتایا کہ انتظامیہ انہیں معاوضہ دے گی کیونکہ یہ ہاؤس بوٹس کمرشل انفراسٹرکچر ہیں اور سیاحت اور LCMA کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور انہیں ریڈ کراس کے ذریعے معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
نگین کے متاثرین سے عوامی نیشنل کانفرنس کی اظہار ہمدردی
سری نگر//عوامی نیشنل کانفرنس نے سرینگر کے نگین جھیل میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات زبردست آتشزدگی سے متاثرہ کنبوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی فوری امداد کیلئے ترجہی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ سینئر نائب صدر مظفر شاہ کے علاؤہ سینئر لیڈر افتخار بانڈے نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ نگین جھیل کے متاثرین نے سب کچھ کھو دیا ہے۔متاثرین اہل وعیال کی کفالت کیلئے بوٹ پر کماتے تھے اور یہی متاثرین کا ذریعہ معاش تھا۔اے این سی کہنا تھا کہ متاثرین اب پناہ گاہوں سے محروم ہوگئے ہیں اور انہیں رہائش کی کوئی جگہ میسر نہیں ہے ،جبکہ ان کیپاس اللہ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے”۔عوامی نیشنل کانفرنس نے ایل جی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی فوری بازیابی کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ اس بابرکت مہینے میں انہیں کسی بھی طرح کے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اے این سی نے غلام محمد بدیاری اور ان کے متاثرین بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرہ بھائیوں کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔










