جموں//پرنسپل سیکرٹری باغبانی ، زرعی پیداوار اور بہبود کساناں نوین کما ر چودھری نے چکروئی ، آ ر ایس پورہ میں ایگریکلچر سیڈ ملٹی پلکیشن فارم کا دورہ کیا۔دورے کے دوران پرنسپل سیکرٹری نے ناظم باغبانی جموں کو ہدایت دی کہ وہ آم ، امرود ، لیچی ، لیمونی وغیرہ کے اعلیٰ کثافت والے پھلوں کے پودوں کی معیاری تیاری کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ’’ میگا ہارٹی کلچر نرسری اعلیٰ کثافت والے پودوں ‘‘کے قیام کے لئے ایک پروجیکٹ رِپورٹ تیار کرے۔اُنہوں نے کہاکہ یہاں تیار کی جانے والی نرسری بالخصوص اعلیٰ کثافت والے پودوں کے پھلوں کی کاشت اَپنی نوعیت کی پہلی کاشت ہوگی۔پرنسپل سیکرٹری کو جانکاری دی گئی کہ 100 ایکڑ رقبے کی اَراضی کا ایس ڈی ایم اور تحصیل دار آر ایس پورہ نے چکروئی میں تعین کیا ہے جوبعد میں محکمہ باغبانی کو منتقل کیا جائے گا۔اُنہیں مزید جانکاری دی گئی کہ صوبہ جموں کے تمام اَضلاع میں کھیت کے مقابلہ میں نرسریوں کا فارم بہت معمولی ہے۔پرنسپل سیکرٹری نوین کمار چودھری نے اَفسران کو ہدایت دی کہ مختلف کاموں بشمول زمین کی سطح کو ہموار کرنے ، فصیل بندی کرنے وغیرہ پرکام فوری طور پر شرو ع کیا جائے اور اگلے تین ماہ میں پودے لگانے والے مواد کی تیاری کا کام شروع کیا جائے ۔میگا نرسری اگلے ایک برس میں قائم کی جائے گی جبکہ اگلے دو برسوں میں معیاری پھلوں کے پودوں کی پیداوار شروع کی جائے گی۔اُنہوں نے ناظم زراعت جموں کو ہدایت دی کہ وہ کھیتی کی پوری بنجر زمین کو کاشت کے دائرے میں لائیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سبزیوں کے ہائبرڈ بیج، ہائبرڈ پوٹیٹیو سیڈ ، دوائیوں والے پودوں جیسے لیموں گھاس اور ایلوویرا اور مسالے اور لال مرچ پر خصوصی توجہ دے کر 100 ایکڑ اراضی کو ہر ایک 25 ایکڑ کی چار نرسریوں میں تبدیل کیا جائے گا۔مزید برآں آنے والے ربیع سیزن میں ہائبرڈ گندم کے بیج کی پیداوار کے لئے 600 ایکڑ فارم اراضی کو زیرکاشت لایا جائے۔بعد میں پرنسپل سیکرٹری نے بی او پی پوسٹ کا بھی دورہ کیا اوروہاں مقامی لوگوں نے انہیں بجلی کی فراہمی کو بڑھانے ، سڑک کی میکڈامائزیشن اور ٹرانسفارمر کے قیام سے متعلق اَپنے مطالبات گوش گزار کئے ۔انہوںنے انہیں یقین دِلایا کہ ان کے مطالبات کو ترجیحی بنیادپر پورے کئے جائیں گے۔پرنسپل سیکرٹری کے ہمراہ رام سیوک ، ناظم باغبانی جموں کے کے شرما، ناظم زراعت جموں رمیش کمار ، اے ڈی ڈی سی جموں رام لال شرما ، ایس ڈی ایم آر ایس پورہ اور محکمہ باغبانی و زراعت کے دیگر اَفسران بھی تھے۔










