سرینگر / /پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار اور بہبود کساناں نوین کمار چودھری نے وائس چانسلر سکاسٹ کے پروفیسر جے پی شرما کی موجودگی میںجموں و کشمیر میں نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا افتتاح کیا ۔ پروگرام کا اہتمام سکاسٹ کے نے زراعت کی پیداوار اور کسانوں کی بہبود کے شعبہ کشمیر کے اشتراک سے کیا تھا ۔ دو روزہ ورکشاپ کے دوران مرکزی توجہ جموں و کشمیر میں نامیاتی کاشتکاری کے نظام کو فروغ دینے کیلئے ایک فرایم ورک تیار کرنے پر ہو گی ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری اے پی اینڈ ایف ڈبلیو ڈی نے نامیاتی کاشتکاری کا جائیزہ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ سائینسدانوں اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کاشتکار برادری میں نامیاتی چقافت کو فروغ دینے کیلئے ایک طریقہ کار تیار کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ نامیاتی زراعت کی طرف منتقلی کیلئے اگلے تین برسوں کیلئے سخت اہداف رکھنا ہوں گے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نامیاتی مصنوعات میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے ساتھ مارکیٹنگ اور پیکجنگ کو نچلی سطح پر نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کیلئے کام کرنا ہو گا ۔ یونیورسٹی کے سائینسدانوں سے کہا گیا کہ وہ کسانوں کے مسائل پر مبنی تحقیق کو ترجیح دیں ۔ وائس چانسلر سکاسٹ کے نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس ورکشاپ کے تصور میں فعال کردار ادا کیا تا کہ یو ٹی میں نامیاتی کاشتکاری کے خواب کو حقیقت بنایا جا سکے ۔ اس موقعہ پر ڈائریکٹر زراعت کشمیر چودھری ایم اقبال نے پرنسپل سیکرٹری اے پی اینڈ ایف ڈبلیو ڈی کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے دو نامیاتی سرٹیفکیشن ایجنسیوں کو یو ٹی کیلئے مطلع کیا اور نامیاتی کاشتکاری کو مضبوط بنانے کیلئے پروگرام وضع کئے ۔ ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچر اعجاز احمد بھٹ نے کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے کیلئے نامیاتی ان پُٹ کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا اور ورکشاپ کو ایک اچھی شروعات قرار دیا ۔ اس سے قبل ممتاز ترقی پسند کسان بھارت بھوشن تیاگی ( پدم شری ایوارڈ یافتہ ) مسرت اور ارشاد احمد ڈار نے نامیاتی کاشتکاری کے مواقع کے بارے میں بات کی اور ایف پی او سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی ۔ جوائینٹ ڈائریکٹر زراعت فارمز ڈاکٹر وسیم احمد شاہ نے وادی کشمیر میں نامیاتی کاشتکاری کے بارے میں تفصیلی پراسپیکٹس پیش کیا ۔ ورکشاپ میں سائینسدانوں کی کہکشاں ، یو ٹی کے اندر اور باہر قومی مشاورتی ، ڈائریکٹر ایکسٹینشن ، ڈائریکٹر ریسرچ ، فیکلٹیز کے ڈینز ، رجسٹرار ، ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ، سائینسدان ، جوائینٹ ڈائریکٹرز ، ڈسٹرکٹ آفیسرز ، قومی /مقامی کسان اور نامیاتی کاروباری حضرات نے شرکت کی ۔










