جموں//پرنسپل سیکرٹری پشو و بھیڑ پالن اور ماہی پروری محکمہ نوین کمار چودھری نے سول سیکرٹریٹ میں تمام مرکزی معاونت والی سکیموں اور سینٹرل سیکٹر سکیموں کے سال 2022-23ء کے مجوزہ ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔تمام لائن محکموں کے اَفسران نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن پیش کی اور آئندہ مالی برس کے منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوا۔پرنسپل سیکرٹری نے ڈائریکٹر فائنانس کو ہدایت دی کہ وہ محکمانہ اخراجات سے پہلے ایکسپنڈچر منصوبے تیار ار منظور کر لیں ۔اُنہوں نے محکموں میں مالیاتی نظم و ضبط پیدا کرنے پر زور دیا۔پرنسپل سیکرٹری نے محکمہ اینمل ہسبنڈری سے مصنوعی تخم ریزی مراکز شروع کرنے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔اُنہوں نے اِنٹگریٹیڈ ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم ( آئی ڈی ڈی ایس ) کے تحت ر عایتی جنس کے مطابق تخم ریزی کے لئے فنڈس مختص کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے ہدایت دی کہ محکمے کسانوں اور اینمل ہسبنڈری اور شیپ ہسبنڈری میں مصروف دیگر اَفراد کے درمیان بہتر معلومات کی ترسیل کے لئے پیشہ ورانہ خدمات اَنجام دیں ۔ اُنہوں نے محکمانہ سبسڈی اور اِنشورنس کی سہولیات کو بہتر بنانے پر زور دیااور اُنہوں نے کہاکہ 25 یا اِس سے چھوٹے ریوڑ والے بھیڑ پالنے والوں کو اِنشورنس کی فراہمی میںترجیح دی جائے گی۔پرنسپل سیکرٹری نے بھیڑوں اور بکریوں کی افزائش نسل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے باقی ہندوستان سے اعلیٰ نسلوں کو درآمد کرنے پر زور دیا ۔ پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ راشٹریہ گوکل مشن او رنیشنل اینمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام فار فوٹ اینڈ مائوٹ ڈیزیز ( این اے ڈی سی پی ۔ ایف ایم ڈی ) کی عمل آوری کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیا ل کیا گیا۔میٹنگ میں رِی سرکیولیٹنگ ایکوا کلچر سسٹم ( آر اے ایس ) اور ٹرائوٹ اور کارپ مچھلیوں کی پیداوار بڑھانے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ میٹنگ میں فِش پلانٹوں کی ترقی کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا ۔ پرنسپل سیکرٹری نے محکمہ ماہی پالن کو ہدایت دی کہ وہ جموںوکشمیر میں ماہی گیری اور ہیچریوں کی ترقی کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کریں۔لائن ڈیپارٹمنٹوں کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ قومی لائیو سٹاک مشن ، اسسٹنس ٹوسٹیٹس فار کنٹرول آف اینمل ڈیزیزس (اے ایس سی اے ڈی )،نیشنل اینمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام ( این اے ڈی سی پی ) اور پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی ) سکیموں اور دیگر منصوبے کے لئے اَپنے متعلقہ ایکشن پلان پیش کریں۔میٹنگ میں کشمیر اور جموں صوبوں کے متعلقہ محکموں کے سینئر اَفسران موجود تھے۔










