سرینگر //محکمہ ہارٹیکلچر کے پرنسپل سیکرٹری نوین کمار چودھری کے ساتھ ایم ڈی این اے ایف ای ڈی ایس کے چڈھا نے جموں و کشمیر میں اعلیٰ کثافت والے شجرکاری کے نفاذ کیلئے ہفتہ کے روز زراعت پروڈکشن اینڈ فارمرس ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ ( اے پی اور ایف ڈبلیو ڈی ) اور ہندوستان کی قومی زرعی کواپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن ( این اے ایف ای ڈی ) کے افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔ ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن جموں و کشمیر کی حکومت کا ایک پرچم بردار منصوبہ ہے جو پھلوں کی پیداواری صلاحیت کو موجودہ 12-10 MT فی ہیکٹر سے بڑھا کر 50-40 MT فی ہیکٹر تک پہنچائے گا تا کہ کاشتکاروں کی آمدنی میں کئی گُنا اضافہ ہو سکے ۔ ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچر کشمیر ، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر جموں ، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ ہارٹیکلچر ، ( ایچ ڈی پی کے نوڈل آفیسر ) اور تمام چیف ہارٹیکلچر آفیسرز نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ میٹنگ کے آغاز میں این اے ایف ای ڈی کے منیجنگ ڈائریکٹر ایس کے چڈھا نے این اے ایف ای ڈی کی جانب سے ہائی کثافت پودے لگانے کی اسکیم کیلئے اب تک کی جانے والی پیش رفت اور حصولیابیوں کے بارے میں ایک تفصیلی پرذنٹیشن دی۔ دریں اثنا ایم ڈی این اے ایف ای ڈی نے جموں و کشمیر کی غیر ملکی سبزیوں اور شہد کیلئے مارکیٹنگ میں معاونت کی پیش کش کی ۔ اس موقعہ پر پرنسپل سیکرٹری نے تمام سی ایچ او کو ہدایت دی کہ وہ چار کنال سے بھی کم اراضی پر قابض اہل حاشیہ کاشتکاروں کی نشاندہی کریں اور ایچ ڈی پودے لگانے میں تیزی لائیں علاوہ ازیں انہوں نے چار دن کے اندر کسانوں کی درخواستوں پر کاروائی کرنے کو کہا ۔ مزید براں پرنسپل سیکرٹری نے ڈی جی ہارٹیکلچر کشمیر اور ڈائریکٹر ہارٹیکلچر جموں کو ہدایت دی کہ غیر ملکی سبزیوں اور شہد کی پیداوار کی مقدار درست کی جائے تا کہ ان مصنوعات کیلئے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ معاوضے کیلئے این اے ایف ای ڈی کے ذریعہ مارکیٹ روابط قائم کئے جائیں ۔ انہوں نے ایچ ڈی پودے لگانے کیلئے وائیرس انڈیکسنگ لیب کے قیام کیلئے زمین کی نشاندہی کرنے کی بھی ہدایت دی ۔










