سری نگر//سری نگرکے مضافاتی علاقہ نوگام کے شنکرپورہ گائوںمیں سیکورٹی فورسزکیساتھ ایک خونین تصادم آرائی میں 3مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے ،جن کاتعلق پولیس کے مطابق لشکرطیبہ (ٹی آرایف)سے تھا۔آئی جی پی کشمیر وجئے کمار نے کہاکہ نوگام انکائونٹرمیں مارے گئے ملی ٹنٹ 9مارچ کوکھنموہ سری نگرمیں ایک سرپنچ کی ہلاکت میں ملوث تھے ۔دفاعی ترجما ن نے کہاکہ ایک تین منزلہ مکان میں موجود جنگجوئوںنے دوران شب فائرنگ شروع کردی اورجوابی کارروائی میں 3ملی ٹنٹ مارے گئے جبکہ ایک فوجی جوان زخمی ہوگیا ۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایاکہ پولیس کوجنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدمنگل کورات دیر گئے پولیس نے فوج وفو رسزکیساتھ ملکر شنکرپورہ نوگام علاقے کومحاصرے میں لیکر جنگجومخالف آپریشن شروع کیا۔ذرائع کے مطابق دوران شب سے بدھ کی صبح تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں3مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے ۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمار نے کہا کہ تینوں لشکر طیبہ کے مقامی دہشت گرد تھے۔انہوں نے کہا کہ انکاؤنٹر کے مقام سے ایک اے کے 47 اور2 پستول برآمد ہوئے ہیں۔کشمیر زون پولیس نے ایک ٹویٹ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار کے حوالے سے کہا،کہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ایل ای ٹی/ٹی آر ایف کے دہشت گرد نوگام انکاؤنٹر میں مارے گئے ملی ٹنٹ 9مارچ کوسری نگرکے کھنموعہ علاقے میںایک سرپنچ سمیر بھٹ کی حالیہ ہلاکت میں ملوث تھے۔پولیس نے بتایاکہ گزشتہ بدھ کو سرپنچ سمیر احمد بٹ کو سری نگر کے مضافات میں کھنموہ علاقے میں دہشت گردوں نے گولی مار دی تھی، جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ادھر دفاعی ترجمان نے ایک بیان میں بتایاکہ سری نگر کے گاؤں شنکر پور کے عام علاقے میں2سے 3 نامعلوم دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں جموں وکشمیرپولیس سے موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر، ہندوستانی فوج نے پولیسکے ساتھ مل کرمنگل کو رات ایک بجے علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ترجمان کے مطابق سیکورٹی فورسز نے گاؤں میں کئی مشتبہ مکانات کے ارد گرد ابتدائی گھیرا قائم کیا۔رات کے تقریباً 2بجکر50منٹ پر، دہشت گردوں نے ایک3 منزلہ مکان سے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ فوری طور پر مکان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا اور اس کارروائی کے دوران بھارتی فوج کا ایک سپاہی گولی لگنے سے زخمی ہوا اور بعد میں اسے باہر نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔دفاعی ترجمان کے مطابق رات بھر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز پر متعدد دستی بم بھی پھینکے۔ فائرنگ کا زبردست تبادلہ بدھ کی صبح تک جاری رہا اور صبح ساڑھے8 بجے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ایک دہشت گرد ماراگیا ہے۔ مکان کو بڑے پیمانے پر نقصان سے بچانے کے لیے صبح سوا9 بجے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں مزید2 دہشت گرد مارے گئے۔انہوںنے کہاکہ اس انکائونٹر میں مارے گئے دہشت گردوںکی شناخت عادل نبی تیلی ساکنہ سندھور،جس نے9 فروری 2021 کو لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی تھی، یاسر احمد وگے ساکنہ کجرکولگام کا، جس نے 22 دسمبر2021 کو لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور شاکر احمد تانتری ساکنہ رینی پورہ، شوپیاں ، جو 8 دسمبر 2021 کو لشکر طیبہ میں شامل ہوا تھا۔ دفاعی ترجمان نے مزیدکہاکہ تصادم کے علاقے سے ہتھیار اور دیگر جنگی سامان برآمد ہوئے ہیں۔
’پولیس کیلئے ایک بڑی کامیابی‘:آئی جی پی
سری نگر//آئی جی پی کشمیروجئے کمارنے بدھ کو کہاکہ علاقائی فوج کے سپاہی،فورسزاہلکار اور2سرپنچوں کی ہلاکت میں ملوث ملی ٹنٹوںکی ہلاکت کو پولیس کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سینئرپولیس افسروجئے کمار نے میڈیا کوبتایاکہ ہم نے سرپنچوں، سی آر پی ایف اور بڈگام کے ایک علاقائی فوجی سپاہی کی حالیہ ہلاکتوں میں ملوث تمام ماڈیولز کا پردہ فاش کیا ہے،جوکہ پولیس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔آئی جی پی کشمیروجئے کمار نے کہاکہ پاکستان نہیں چاہتا کہ جموں وکشمیرمیں جمہوری عمل یا ترقی جاری رہے، اس لئے وہ پنچوں، سرپنچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن ہم انہیں مناسب جواب دے رہے ہیں۔وجئے کمار نے کہا کہ ہم سرپنچوں اوردیگر لوگوںکی ہلاکتوں میں ملوث عناصر کی شناخت کر رہے ہیں، اُنہیں گرفتار کر رہے ہیں یا انکاؤنٹر میں انہیں ہلاک کر رہے ہیں۔










