سرینگر//مرکزی سرکار کی جانب سے ادویات کے معیار سے متعلق ہدایات و ضوابط وضع کرنے کے باوجود بھی نقلی اور غیر معیاری ادویات کی تیاری اور کاروبار بدستور جاری ہے اور انسانی جانوں سے کھلواڑ کرنے والے اپنی تجاریاں بھر رہے ہیں ۔گذشتہ برس مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں غیر میعاری ادویات کو روکنے اور قیمتوں میں تخفیف کا عمل جاری ہے تاہم ایک برس گزرنے کے باوجود بھی زمینی سطح پر اس پر عمل دآمد نہیں ہوسکا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مرکزی سرکار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں ادویات کی میعار اور اس کی قیمتوں میں تخفیف کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں، جہاز رانی اور کیمیاوی اشیا اور کیمیاوی کھادوں کے وزیر مملکت کی طرف سے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں جینرک ناموں کے تحت دواؤں کے معیار اور عام لوگوں کو سستی قیمت پر ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا کہ ملک میں جو دوائیں تیار کی جاتی ہیں، خواہ وہ کسی برانڈ کے نام سے ہوں یا جینرک ہوں، ان کے لئے ضروری ہے کہ اسی معیار کے مطابق ہوں جو 1940 کے ادویات اور کاسمیٹکس قانون میں اور میعار سے متعلق اس کے بعد وضع کئے گئے اصولوں میں درج ہیں۔ سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) اور صحت نیز خاندانی فلاح و بہبود کی وزارت کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضابطے کے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں کہ ملک میں جینرک دواؤں کے معیار کو یقینی بنایا جائے۔ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 میں 2008 میں ترمیم کی گئی تاکہ نقلی اور ملاوٹ والی دواؤں کی تیاری کے لئے سخت جرمانے کئے جاسکیں۔ بعض جرائم کو قابل دست اندازی پولیس اور قابل ضمانت بنادیا گیا ہے۔ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تیز رفتاری سے فیصلے کرانے کی خاطر ڈرگ اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت جرائم کے مقدمات کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کریں۔ 22 ریاستوں نے اس طرح کی خصوصی عدالتیں پہلے ہی قائم کردی ہیں۔ ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس (ترمیمی) ایکٹ 2008 کے تحت جعلی اور معیار کے غیر مطابق دواؤں کے نمونوں کے سلسلے میں کارروائی کے لئے رہنما خطوط کو فراہم کئے گئے ہیں تاکہ ان رہنما خطوط پر سب جگہ عمل کیا جاسکے۔انسپکٹر عملے کو ہدایت د گئی ہے کہ وہ نگرانی رکھے اور جانچ اور تجزیئے کے لئے دواؤں کے نمونے جمع کرے تاکہ ملک میں دواؤں کے معیار کا جائزہ لیاجاسکے۔ سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) میں تسلیم شدہ عہدوں کی تعداد جو 2008 میں 111 تھی، 2018 میں بڑھاکر 510 کردی گئی ہے۔ سی ڈی ایس سی او کے تحت دواؤں کی جانچ پڑتال کرنے والی مرکزی تجربہ گاہوں کو مسلسل مستحکم بنایا جارہا ہے تاکہ وہ ملک میں ادویات کے نمونوں کی جانچ تیزی کے ساتھ کرسکیں۔تین اپریل 2017 کو دواؤں کے اثرات کو یقینی بنانے کے لئے ادویات اور کاسمیٹکس کے ضابطوں مجریہ 1945 میں ترمیم کی گئی جس کے تحت یہ لازمی ہے کہ دوائیں تیار کرنے والی کمپنی دواؤں کی تیاری کی درخواست کے ساتھ دواؤں کا حیاتیاتی متبادل جائزہ بھی پیش کریں۔ستائس اکتوبر 2017 کو ادویات اور کاسمیٹکس سے متعلق ضابطے مجریہ 1945 میں گزٹ نوٹی فکیشن نمبر جی ایس آر 1337 میں ترمیم کی گئی تاکہ لائسنس جاری کرنے سے پہلے یہ لازمی ہے کہ ادویات تیار کرنے والے ادارے کامرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے ڈرگس انسپکٹر، مشترکہ طور پر معائنہ کریں۔لائسنس یافتہ دوائیں تیار کرنے کی جگہ کا مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے ڈرگس انسپکٹر مشترکہ طور پر معائنہ کریں گے اور اس بات کی تصدیق کریں گے کہ لائسنس، ادویات اور کاسمیٹکس قانون اور اصولوں کی شرائط کی پابندی کی جارہی ہے۔ یہ معائنہ تین سال میں کم ازکم ایک بار ہونا چاہیے یا جیسی ضرورت ہو۔دس اپریل 2018 کو ادویات اور کاسمیٹکس کے ضابطوں کے مجریہ 1945 میں گزٹ نوٹی فکیشن نمبر جی ایس آر 360 کے تحت ترمیم کی گئی اور تمام دواؤں کے لئے یہ بات کو لازمی بنایا گیا کہ درخواست گزار اتھارٹی سے دوائیں تیار کرنے کا لائسنس حاصل کرنے سے پہلے ریاستی لائسنسگ اتھارٹی کو حالات کے سازگار ہونے اور حفاطتی اقدامات پورے ہونے کے بارے میں ثبوت پیش کریں گے۔ اس وقت مزید بتایا گیا تھا کہ ملک میں دواؤں کی تیاری اور تقسیم کو ادویات اور کاسمیٹکس کے قانون 1940 کے تحت اور ضابطوں مجریہ 1945 کے تحت منضبط کیا گیا ہے۔ یہ کام لائسنس دینے اور معائنہ کرنے کے ایک نظام کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ ادویات کی تیاری ، فروخت اور تقسیم کے لئے لائسنس ریاستی لائسنسنگ اتھارٹی انجام دیتی ہے ، جس کا تقرر متعلقہ ریاستی حکومتیں کرتی ہیں۔ ادویات اور کاسمیٹکس سے متعلق 1940 کے قانون کے تحت ڈرگس انسپکٹروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جانچ / تجزیئے کے لئے کسی بھی دوا کا نمونہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ریاستی اور مرکزی ڈرگس انسپکٹرس مارکیٹ/ سپلائی چینوں سے نمونے حاصل کرتے ہیں اور انہیں ادوایات کی جانچ کرنے والی سرکاری تجربہ گاہوں سے ٹیسٹ کراتے ہیں۔اگر یہ نمونے معیار کے مطابق نہیں ہوتے یا دوائیں نقلی ہوتی ہیں تو قانون اور ضابطوں کے مطابق کارروائی شروع کی جاتی ہے۔ لائسنس یافتہ فرموں کے لئے ضروری ہے کہ وہ لائسنس میں دی گئیں تمام شرائط کی پابندی کریں اور اصولوں کے تحت ادویات تیار کرنے کی اچھی پریکٹسوں (جی ایم پی) کو یقینی بنائیں تاکہ رن کی طرف سے تیار کردہ ادویات محفوظ اور معیاری ہوں۔سبھی کے لئے اور خاص طر پر غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے لئے ادویات کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے جینرک دوائیں کو رول ادا کررہی ہیں، اس کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے بتایاگیاتھا کہ پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدی پری یوجنا (پی ایم بی جے پی) کے تحت فراہم کی جانے والی ادویات اور جراحی کے آلات وغیرہ سے سبھی کو 50 سے لیکر 90 فیصد تک فائدہ ہورہا ہے۔خصوصی مراکز سے سستے داموں، معیاری جینرک دوائیں فراہم کرنے کی غرض سے پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پری یوجنا (پی ایم بی جے پی) کی شروعات ادویات سازی کے محکمے نے سال 2008 میں کی تھی۔ 31 جولائی 2018 تک ملک میں 34 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 3894 پی این بی جے پی مراکز کام کررہے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کی تمام ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، اضلاع، تحصیلوں، براکوں اور گرام پنچایتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پی این بی جے پی کے تحت اچھے معیار کی دواؤں کی فراہم کو یقینی بنانے کی غرض سے 150 سے زیادہ پرائیویٹ ادویہ ساز کمپنیاں (ڈبلیو ایچ او کی شرائط کے مطابق) دوائیں اور جراحی آلات وغیرہ تیار کررہی ہیں۔ کافی دوائیں دوا سازی کے مرکزی اداروں کے ذریعہ بھی تیار کی جارہی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھاکہ تیاری کے ساتھ ساتھ ادویات کے ہر بینچ کو ان تجربہ گاہوں میں جانچہ جاتا ہے جو اس مقصد کے لئے خاص طور پر بنائی گئیں ہیں۔معیار سے متعلق جانچ پڑتال کے بعد ہی ان دواؤں کو بی این بی جے پی مراکز پر بھیجا جاتا ہے۔










