doctors

نظامت صحت سے منسلک درجنوں ڈاکٹر تعیناتی کے منتظر

4 ماہ سے تنخواہیں بند،یقین دہانیوں کے باوجود پیشرفت ندارد

سرینگر/ یو این ایس// محکمہ صحت میںڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر سے منسلک 70 سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر گزشتہ چار ماہ سے تعیناتی کے احکامات کے منتظر ہیں، جس کے باعث انہیں اکتوبر 2025 سے تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں ہو سکی ہے۔ متاثرہ ڈاکٹروں میں ایم بی بی ایس، ایم ڈی اور ڈی این بی جیسے پیشہ ورانہ کورس مکمل کرنے والے ڈاکٹر شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق، یہ تمام ڈاکٹر پہلے ہی سرکاری ملازمت میں تھے اور انہوں نے متعلقہ محکموں کی اجازت سے اعلیٰ پوسٹ گریجویٹ اور سپر اسپیشلٹی کورسز مکمل کیے۔ تاہم، اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں تاحال باقاعدہ تعیناتی کے احکامات جاری نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ عملی طور پر فارغ بیٹھے ہیں اور گزشتہ چار ماہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔یو این ایس کے مطابق متاثرہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکام نے انہیں بتایا تھا کہ ان کی فہرست مزید تعیناتی کے لیے سول سیکریٹریٹ میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ارسال کر دی گئی ہے، لیکن بار بار یقین دہانیوں کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اس تاخیر نے ڈاکٹروں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ڈاکٹروں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ تعیناتی میں تاخیر نہ صرف ان کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس کا براہِ راست اثر مریضوں کی دیکھ بھال پر بھی پڑ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر کے سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی شدید کمی پائی جا رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ متعدد طبی ادارے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ تربیت یافتہ اور اہل ڈاکٹر خدمات انجام دینے کے لیے دستیاب ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں۔متاثرہ ڈاکٹروں نے محکمہ صحت و طبی تعلیم کے سیکریٹری سید عابد رشید سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور فوری طور پر تعیناتی کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کو بھی یقینی بنائیں۔ دریں اثنا، اس سلسلے میں سیکریٹری صحت و طبی تعلیم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔