وادی میںپرامن دھرنے کی اجازت کے باوجود کریک ڈاؤن// طارق قرہ
سرینگر/یو این ایس//جموں و کشمیر میں کانگریس پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ مجوزہ پر امن احتجاج سے قبل وادی کشمیر میں ضلع کانگریس کمیٹیوں کے تمام صدور سمیت کئی اعلیٰ قائدین کو احتیاطی طور پر گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق یہ احتجاج مرکزی حکومت کے اس مجوزہ فیصلے کے خلاف طے کیا گیا تھا جس کے تحت مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (ایم جی نریگا) کی جگہ گرامین روزگار گارنٹی ایکٹ لانے کی بات کی جا رہی ہے۔جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حامد کَرّا نے کہا کہ پارٹی نے ایک پر امن دھرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کی پیشگی اطلاع انتظامیہ کو دی گئی تھی۔انہوں نے کہا’’یہ کوئی اچانک یا غیر منظم احتجاج نہیں تھا، بلکہ ایک طے شدہ اور مکمل طور پر پر امن مظاہرہ تھا، اس کے باوجود ہمیں روک دیا گیا۔‘‘طارق قرہ نے سوال اٹھایا کہ آخر انتظامیہ نے اس احتجاج کو روکنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے حکومت عوامی رائے کو منظم ہونے سے خوفزدہ ہے یا پھر صورتحال کسی غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کم نہیں۔انہوں نے اس اقدام کو ‘‘جمہوریت کا جنازہ’’ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو کمزور کیا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قرہ نے حکومتی رویے کو ‘‘ہٹلر شاہی طرزِ عمل’’ سے تعبیر کیا۔یو این ایس کے مطابق کانگریس پارٹی نے واضح کیا کہ وہ مجوزہ گرامین روزگار گارنٹی قانون کے خلاف ملک گیر مہم چلا رہی ہے، جسے پارٹی نے ‘‘عوام دشمن’’ قانون قرار دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ قانون دیہی علاقوں میں کروڑوں غریب شہریوں کے روزگار اور معاشی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔










