ناگپور ٹیسٹ تین دن میں ختم، آسٹریلیا کو اننگز اور 132رنز سے بدترین شکست

بھارت نے اسپنرز بالخصوص رویندرا جدیجا کی عمدہ کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا کو پہلے ٹیسٹ میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 132 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ناگپور میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کچھ اچھا ثابت نہ ہو سکا۔محض دو رنز پر دونوں اوپنرز گنوانے کے بعد مارنس لبوشین اور اسٹیو اسمتھ نے اپنے تمام تر تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے 82 رنز کی ساجھے داری قائم کی جو میچ میں آسٹریلیا کی سب سے بڑی شراکت ثابت ہوئی، دونوں کھلاڑی بالترتیب 49اور 39رنز بنانے کے بعد جدیجا کی وکٹ بن گئے۔پیٹر ہینڈزکومب اور ایلکس کیری نے بھی 53 رنز کی شراکت قائم کی لیکن بالترتیب 31اور 36رنز بنانے کے بعد وہ بھی پویلین لوٹ گئے اور یوں آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگز میں 177 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔بھارت کی جانب سے رویندرا جدیجا نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 47رنز کے عوض 5 جبکہ روی چندرن ایشون نے 3 وکٹیں لیں۔بھارت نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز روہت شرما اور لوکیش راہُل نے ٹیم کو 76رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن راہُل 20رنز بنانے کے بعد چلتے بنے۔اس کے بعد ایک اینڈ سے بلے باز ایک ایک کر کے پویلین لوٹتے رہے لیکن کپتان روہت نے ڈٹ کر مہمان باؤلرز بالخصوصی ٹوڈ مرفی کا مقابلہ کرتے ہوئے سنچری بنائی، وہ 120رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔جب سریکار بھرت 8 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے تو بھارتی ٹیم 240رنز پر 7 وکٹیں گنوا چکی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ شاید وہ پہلی اننگز میں بڑی لیڈ نہیں لے سکیں گے لیکن جدیجا اور اکشر پٹیل نے آسٹریلیا کے ارمانوں کو خاک میں ملا دیا۔دونوں اسپن آل راؤنڈرز نے آٹھویں وکٹ کے لیے 88 رنز کی ساجھے داری قائم کی اور اپنی ٹیم کی پوزیشن کو میچ میں مزید مستحکم کردیا، جدیجا 70 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔اکشر پٹیل نے 84 رنز کی اننگز کھیلی اور 37 رنز بنانے والے شامی کے ہمراہ مزید 52 رنز جوڑے۔بھارت کی پوری ٹیم 400 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور یوں میزبان ٹیم نے پہلی اننگز میں 223 رنز کی بھاری برتری حاصل کی۔آسٹریلیا کی جانب سے پہلا میچ کھیلنے والے ٹوڈ مرفی نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 124 رنز کے عوض 7 وکٹیں لیں۔آسٹریلیا کی دوسری اننگز پہلی اننگز سے بھی زیادہ ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی اور تمام بلے باز بھارتی باؤلرز بالخصوص اسپنرز کے سامنے بالکل بے بس نظر آئے۔اسٹیو اسمتھ 25 اور لوبشین 17 رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بلے باز رہے جبکہ 7 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔