تیز اور معیاری تکمیل پر زور دیا ، چشوتی میں یاتریوں کی سہولت کیلئے بیلی پُل کی تنصیب کا حکم دیا
جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے پاڈر ۔ ناگسینی حلقہ میں جاری سڑک اور پُل کے ترقیاتی پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ منعقد کی۔ اِس میٹنگ میں حزبِ اِختلاف کے لیڈر سنیل شرما بھی شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ نائب وزیر اعلیٰ نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا ، نیشنل بینک فار ایگری کلچر اینڈرورل ڈیولپمنٹ ( نبارڈ ) اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری تمام سڑک اور پُل منصوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ اُنہوں نے کاموں کے جائزے کے دوران تمام جاری منصوبوں کی تیز رفتار اور معیاری تکمیل کی ضرورت پر زور دیا تا کہ مقررہ وقت میں تکمیل یقینی بنائی جا سکے ۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا، ’’حکومت اس خطے میں تمام بستیوں تک بہتر سڑک انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور ہموار رابطے کو یقینی بنانے کا عزم رکھتی ہے ، عمل درآمد میں کسی بھی کمی یا تاخیر کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا ۔ ‘‘ اُنہوںنے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے دوران مقامی ایم ایل اے کو شامل کیا جائے تا کہ ترقیاتی کام علاقے کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ہوں ۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر کام کی تکمیل اور منصوبہ بندی میں عوامی نمائندوں سے مشاورت کی جائے تا کہ مناسب اور مطلوبہ ترقی کی پیشکش اور عمل درآمد ہو ۔ ‘‘ اُنہوں نے یاتریوں اور عام لوگوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت کو یقینی بنانے کیلئے بیلی پُل کی تنصیب پر بھی زور دیا ۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے افسران کو فوری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت دی کہ کشتواڑ کے گاؤں چشوتی میں جہاں گذشتہ برس کے سیلاب میں پُل بہہ گیا تھا وہاں بیلی پُل تعمیر کیا جائے تا کہ جلد از جلد رابطہ بحال کیا جا سکے ۔ اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ تمام جاری منصوبے مقررہ ٹائم لائن میں مکمل کئے جائیں ۔ میٹنگ کے شروعات میں حزبِ اِختلاف کے لیڈر سنیل شرمانے مختلف منصوبوں کی موجودہ صورتحال پر بات کی اور لوگوںکے مسائل کو میٹنگ میں پیش کیا تا کہ ان کا بروقت حل کیا جا سکے ۔ میٹنگ میں چیف اِنجینئر پی ایم جی ایس وائی جموں ، چیف اِنجینئر چناب زون ، ڈائریکٹر فائنانس پی ڈبلیو ڈی ، ایس ایز اور ایگزیکٹیو انجینئروںسمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں پاڈر ناگسینی حلقہ میںعملائے جا رہے مختلف نبارڈ اور سی آر ایف منصوبوں پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔










