جموں//نائب وزیرا علیٰ سریندر کمار چودھری نے آج جموں فلور ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ مقامی جموں فلور ملز ایسوسی ایشن کو درپیش اہم مسائل بالخصوص پنجاب حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی فلو رملوں کیلئے گندم کی خرید پر منڈی فیس عائد کئے جانے سے پیدا ہونے والی مشکلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جا سکے ۔جموںفلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے نائب وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے ریاست سے باہر کے ملرز پر گندم کی خریداری پر ایم آر پی سے اوپر 6 فیصد اِضافی منڈی فیس عائد کی ہے جس میں منڈی ٹیکس، ارتھیا کمیشن اور دیگر ٹیکسز شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اِس سے جموں کے ملرز پر اِضافی مالی بوجھ پڑاہے کیوں کہ انہیں مہنگے داموں گندم خریدنی پڑ رہی ہے جس کے نتیجے میں آٹا، میدہ، سوجی، دلیا، چوکر اور گندم کے دیگر مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ نے جموں ملرز کے مسائل بغور سننے کے بعد یقینی دہانی کی کہ فلور ملوں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف فلور ملوں کا نہیں بلکہ مقامی روزگار کے تحفظ، معیشت کو فروغ دینے، مقامی فلور ملوں کو برقرار رکھنے اور اشیأ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے سے بھی جڑا ہوا ہے۔نائب وزیرا علیٰ نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت اَپنی مقامی صنعت کو سپورٹ کرنے کے لئے پُرعزم ہے اور انہیں ترقی دینے کے لئے ہر ممکن قدم اُٹھائے گی۔










