جاری منصوبوں کامعائینہ کیا ،ہرے پیر پُل کے ڈیزائن کی انکوائری کا حکم دیا اور گائوں سائیں میں دِن بھرعوامی رَسائی پروگرام کا اِنعقاد
جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے آر ایس پورہ کے سرحدی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا تاکہ جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور عوامی شکایات سنی جا سکیں۔دورے کے دوران اُنہوں نے گاؤں سائیں میں دن بھر جاری رہنے والے عوامی رابطہ پروگرام کی صدارت کی اور اُنہوں نے وہاںمقامی لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے بات چیت کی اور اُن کے مسائل غور سنا۔نائب وزیراعلیٰ نے سرحدی علاقوں کی ہمہ جہت ترقی پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ علاقے میں کمیونٹی ہال، اِنڈسٹریل اسٹیٹ اور دیگر عوامی سہولیات کی تعمیر کے لئے مناسب سرکاری زمین کی نشاندہی کی جائے۔اُنہوں نے کہا ،’’ہماری توجہ دیرپا اور جامع ترقی پر مرکوز ہے اور حکومت سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔‘‘سریندر کمار چودھری نے افسران کو ہدایت دی کہ دستیاب سرکاری زمین پر انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جائے اور واضح کیا کہ صنعتیں کسانوں کی زمین حاصل کرکے قائم نہیں کی جائیں گی۔اُنہوں نے سکل ڈیولپمنٹ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے مقامی نوجوانوں کے لئے تربیتی مواقع بڑھانے اور انہیں بہتر روزگار کے لئے ہنر مند بنانے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ محکمہ محنت و روزگار کے تحت بیداری اور رجسٹریشن کیمپ منعقد کئے جائیں تاکہ مستحق افراد فلاحی فوائد سے مستفید ہو سکیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا،’’میں تمام رہائشیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ لیبر کارڈ کے لئے رجسٹریشن کریں جو بیٹیوں کی شادی میں مدد، بچوں کی تعلیم کے لئے سکالرشپ اور کارکنوں کے لئے ہیلتھ اِنشورنس کوریج جیسے فوائد فراہم کرتے ہیں۔‘‘اِس سے قبل اُنہوں نے بابا ہرے پیر درگاہ پر حاضری دی اور جموں و کشمیر میں امن، بھائی چارے اور خوشحالی کے لئے دعا کی۔بعد میں اُنہوں نے سائیں کلاں میں ہرے پیر پُل کی بحالی کے کام کا معائینہ کیا اور منصوبے کے ناقص ڈیزائن اور عملدرآمد پر شدید تشویش کا اِظہار کیا۔نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھرینے تاخیر اور تکنیکی کوتاہیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ موجودہ ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اس کے تحفظ سمیت مستقل بحالی کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو آمدورفت میں آسانی حاصل ہو۔اُنہوں نے دورے کے دوران سائیں فگل پُل (ایک نالہ) کی جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی معائینہ کیا اور اس کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ منصوبہ بروقت مکمل ہو سکے۔عوامی رابطہ پروگرام کے دوران مقامی باشندوں نے ترقی اور بنیادی سہولیات سے متعلق متعدد مسائل اُٹھائے۔ اہم مسائل میں مغربی پاکستان رفیوجی (ڈبلیو پی آر) کے قانونی الاٹیوں کے ملکیتی حقوق، آبپاشی کے پانی کی فراہمی میں بہتری، ڈی۔17 اور جاگوبل جیسے نہروں کی دیکھ ریکھ اور سرحدی باڑ کے پرے زمین کاشت کرنے والے کسانوں کے لئے بجلی کے بلوں میں ریلیف شامل تھے۔مقامی لوگوں نے صفائی ستھرائی کی بہتر سہولیات، خواتین کے لئے بیت الخلا کی تعمیر، سرحدی علاقوں میں انفرادی بنکروں کی تصدیق، بہتر عوامی ٹرانسپورٹ خصوصاً ای۔بس سروسز اور سیلاب یا دیگر آفاتِ سماوی سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بروقت بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔نائب وزیراعلیٰ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اٹھائے گئے مسائل پر فوری کارروائی کی جائے اور سرحدی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی تیزی سے عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ دورے کے دوران نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری کے ہمراہ رُکن اسمبلی سچیت گڑھ گھارو رام بھگت، سابق ڈی ڈی سی اراکین، پی ایم جی ایس وائی اور پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئران، متعلقہ ایس ڈی ایم اور دیگرسینئر افسران بھی تھے۔










