کہا، مزدور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیںاور حکومت ان کی فلاح و سماجی تحفظ کیلئے پُر عزم ہے
سانبہ//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمارچودھری نے مزدوروں کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں مزدوروں کی معاشی فلاح اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔نائب وزیر اعلیٰ ضلع سانبہ کے امبیڈ کر بھون بڑی براہمنا میں محکمہ محنت و روزگار کی جانب سے منعقدہ ورکرز کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔اُنہوں نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین اور فلاحی سکیموں کی عمل آوری کے لئے پُر عزم ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’ہمارے مزدور معاشی ترقی کی اصل طاقت ہیں۔ حکومت جموں و کشمیر کے ہر مزدور کے لئے محفوظ کام کے حالات، منصفانہ اُجرت، سماجی تحفظ اور باعزت محنت کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔‘‘نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لیبر قوانین میں جاری اصلاحات کے تحت چار نئے لیبر کوڈز متعارف کئے گئے ہیں جن کے ذریعے 29 مرکزی لیبر قوانین کو یکجا کر کے چار جامع ضابطوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ ضابطے اُجرت، صنعتی تعلقات، پیشہ ورانہ تحفظ اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ نئے لیبر کوڈز ایک تاریخی اِصلاحات ہیں جو مزدوروں کے تحفظ اور فلاح وبہبودکو مضبوط بناتے ہوئے لیبر قوانین کو آسان بناتے ہیں۔ اِن اصلاحات کا مقصد کم از کم اجرت کی فراہمی، کام کی جگہوں پر بہتر تحفظ، سماجی تحفظ میں اِضافہ اور تنازعات کے حل کے بہتر نظام کو یقینی بنانا ہے۔‘‘نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ کوڈ آن ویجز یکساں اجرت کے ضابطے اور بروقت ادائیگی کو یقینی بناتا ہے اور صنفی مساوات کو فروغ دیتا ہے ۔اِنڈسٹریل ریلیشنز کوڈ تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو مضبوط کرتا ہے اور آجروں اور مزدوروں کے درمیان بہتر تعلقات کو آسان بناتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ پیشہ ورانہ حفاظت، صحت اور کام کی شرائط کے کوڈ کام کی جگہ کی حفاظت اور صحت کے معیار کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جبکہ سماجی تحفظ کے کوڈ کے ذریعے منظم، غیر منظم، گیگ اور پلیٹ فارم شعبوں میں کام کرنے والے کارکنان کے لئے فلاحی فوائد کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔سریندر کمار چودھری نے کہا کہ محکمہ محنت جموں و کشمیر میں ان اصلاحات کی مؤثر عمل آور کے لئے کام کر رہا ہے تاکہ مزدور دوست، شفاف اور منصفانہ لیبر نظام قائم کیا جا سکے۔اُنہوں نے محکمہ کی کامیابیوں کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی برس کے دوران مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق 493 مقدمات نمٹائے گئے ہیں اور مختلف لیبر قوانین کے تحت متاثرہ مزدوروں کو 14.27 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے اِس بات پر زور دیا کہ تمام اہل مزدوروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلائی جائے تاکہ وہ مرکزی اور یوٹی سطح کی مختلف فلاحی سکیموں سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ مزدوروں کی معاشی تحفظ اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لئے لیبر ویلفیئر سکیموں کی زیادہ سے زیادہ رسائی ضروری ہے۔اُنہوںنے مزید کہاکہ محکمہ نے ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دیتے ہوئے سنگل وِنڈو سسٹم کے ذریعے 23 خدمات آن لائن فراہم کی ہیں۔ رواں مالی برس کے دوران آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے زائد اَز14 ہزار رجسٹریشن اور 11 ہزار سے زیادہ تجدیدی درخواستوں پر کارروائی کی گئی ہے۔نائب وزیراعلیٰ نے محکمہ کی جانب سے شروع کی گئی ’’شرمک وارتا‘‘مہم کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد مزدوروں کی شکایات کا براہِ راست ازالہ کرنا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اَب تک 16 شرمک وارتا نشستیں منعقد کی جا چکی ہیں جن میں 358 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے بیشتر کا ازالہ کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مزدوروں کو بروقت مدد فراہم کرنے اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لئے قائم کی گئی چوبیس گھنٹے دستیاب ٹول فری ہیلپ لائن ’شرم مترا‘کا بھی ذکر کیا۔اُنہوںنے محکمہ کی جانب سے اس نوعیت کی تقریبات منعقد کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کو مزدوروں تک ان کی کام کی جگہوں پر پہنچنے اور ان کے مسائل براہِ راست سننے کا موقع ملتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئندہ یہ کانفرنسیں دیگر اضلاع میں بھی منعقد کی جائیں گی تاکہ مزدوروں تک ان کی دہلیز پر پہنچا جا سکے۔ اُنہوں نے خواتین مزدوروں کے لئے خصوصی کانفرنسوں کے اِنعقاد کا بھی اعلان کیا۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مزدوروں کے لئے محفوظ اور باوقار رہائش فراہم کرنے کے لئے لیبر سرائیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیںبالخصوص ان مزدوروں کے لئے جو روزگار کی تلاش میں دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔اُنہوں نے پروگرام کے دوران مختلف فلاحی سکیموں کے تحت جموں و کشمیر بلڈنگ اینڈ ادر کنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ (جے کے بی او سی ڈبلیو ڈبلیو بی)، ایمپلائز کمپنسیشن ایکٹ اور اِی ایس آئی سکیموں کے تحت مستحقین میں مجموعی طور پر 84,07,071 روپے کی مالی اِمداد تقسیم کی۔
اِس سے قبل لیبر کمشنر جموں و کشمیر چرن جیت سنگھ نے کہا کہ اہل مزدوروں کی جموں و کشمیر بلڈنگ اینڈ ادر کنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ (جے کے بی او سی ڈبلیو ڈبلیو بی) کے تحت رجسٹریشن نہایت ضروری ہے تاکہ وہ بورڈ کی مختلف فلاحی سکیموں سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اس پروگرام نے کارکنوں کو مختلف فلاحی اقدامات کے تحت حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں اپنے تجربات اور تاثرات اشتراک کرنے کے لئے ایک کھلا پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔بیداری کو مزید بڑھانے کے لئے ایک نکڑ ناٹک بھی پیش کیا گیا جس میں عمارت اور دیگر تعمیراتی مزدوروں کی فلاحی سکیموں کے فوائد اور لیبر قوانین کی اہم دفعات کو اُجاگر کیا گیا۔اِس موقعہ پر لیبر کمشنر جموں و کشمیر چرنجیت سنگھ، ڈپٹی لیبر کمشنر جموں سکھ پال سنگھ، اِنسپکٹر آف فیکٹریز، اسسٹنٹ لیبر کمشنران سانبہ و جموں، آئی ایم او سانبہ للت مہاجن، بڑی براہمنا انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر افسران کے علاوہ بڑی تعداد میں مزدور اورشراکت دار بھی موجود تھے۔










