شیخ بشیراحمد
ٹینگہ پورہ نواب بازار سرینگر
نیند سے اُٹھ کر آج وہ ایک عرصہ کے بعد ہلکاپُھلکا محسوس کر رہا تھا۔ ورنہ آنکھ کھلتے ہی دفتری تنائو کی وجہ سے اس کی طبیعت گری گری سی رہنے لگی تھی اور بدن پر جسے چونٹیاں رینگتی ہوئی محسوس ہوتی تھی
ایک مدت سے وہ دفتر کی ذمہ داریوںکے بوجھ تلے دبا ہوا تھا مگر اب نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد اس کا دل و دماغ پر پڑا بوجھ اتر گیا تھا۔
اب اسے نہ دفتر جانے کی فکر تھی اور نہ پریشانی نہ کوئی مجبوری ۔۔۔۔۔وہ ایک آزاد پرندے کی طرح اپنی مرضی کا آپ مالک تھا۔یہ خیال آتے ہی اس کے لبوں پر بے ساختہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے اپنی دونوں ٹانگیں پسار لیں۔
وہ سوچنے لگا۔چونکہ اب تو بوڈھا ہو گیا ہوں۔ کام کاج بھی نہیں ہیںاور جسم میں پہلے سی پھرتی و توانائی بھی نہ رہی۔اُٹھ کر کیا کرئوں اور کدھرجائوں اور پھر ایسے موسم میں جب باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہو۔صبح کے وقت بستر کی گرمی اور نرم و آرام وہ گدیلے پر لیٹ کر سونے میں اپنا مزہ اپنا لطف ہوتا ہے۔جسے وہ کھونا نہیں چاہتاتھا۔یہ سوچ کر دل اُس کاچاہ رہا تھا کہ وقت گزاری کے لیے وہ یوں ہی کچھ دیر تک لیٹا رہے نہ کوئی جگائے،نہ کوئی شور مچائے۔اور وہ لیٹ گیا۔
وہ اپنی سرخروئی پر نہایت ہی مطمئن اور شاد مان تھا کہ اس نے ملازمت کے دوران ہی گھر بھر کا خیال رکھااور بچوں کی پڑھائی پر دھیان دیا تھا۔اس کے ایک بیٹا اور دو بیٹیاںتھیں۔بڑا لڑکا ڈاکٹر بن گیااور شادی کے بندھن میں بندھ گیا۔اس سے چھوٹی بیٹی وکیل بنی اور تیسری نے ایم اے میں نماں کا کامیابی حاصل کی۔علاوہ ازیں رہنے کے لیے ایک شاندار بنگلہ بھی بنوادیاجس میں اب وہ ٹھاٹ بھاٹ سے رہ رہا تھا۔
اس طرح وہ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب رہا اور ساتھ ہی اس کی بڑی آرزو پوری بھی ہوئی تھی ورنہ سبکدوشی کے بعد کون کس کو پوچھتا ہے اور کونسا مسئلہ بڑی آسانی کے ساتھ حل ہوتا ۔اب تو اس کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بڑھاپے میں اس کی لاٹھی بن کر سہارا دے اور ایک سخاوت مند فرزند ہونے کا ثبوت دے۔ لیٹے لیٹے اس کو پرانی یادیں آرہی تھیں۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان ہی خیالوں کےریلے میں ڈوب گیا اور ڈوبتا چلا گیا۔
عمر کے ساٹھ برس کسیے گذار گئے۔کب صبح ہوئی اور کب شام ہوئی۔ وہ دفتری مصروفیات میں اتنا مشغول رہا کہ اسے وقت گزرنے کا کچھ پتہ ہی نہ چلا۔دن اور مہینے ہفتوںکی طرح بیت گئے۔یہاں تک ریٹائرمنٹ کا وقت پورا ہونے کو آگیااور اس کی نوکری کی میاد ختم ہوگئی۔
ایک دور ایسا تھاجب اس نے اپنی عمر وقت کی پابندی۔دیانتداری اور نفاست پسندی کے ساتھ خلق خدمت میں گزار دی۔لیکن اب رٹیایئرمنٹ کے ساتھ ہی اس میں آہستہ آہستہ تبدیلی آنے لگی۔اس کی تلون مزاجی بڑھتی گئی اور نفسات پسندی کم ہوتی گئی۔کاہلی سستی جو پہلے نہیں تھی وہ آگئی۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی زندگی میں اچانک ایک نیا سا بدلائو آگیا۔
ابھی وہ اسی مڈسبھیڑ میں تھا۔اچانک کسی نے باہر دروازے پر دستک دی اور پھر دھڑام سے کمرہ کا دروازہ کھولا۔کھلتے ہی اس کی بہو اندر آئی اور سامنے کھڑی ہو کر بولی ۔ــ’’چھی !چھی! اؔباجی!دن کب کا چڑھ آیاہے اور آپ ابھی تک سوئے ہوئے ہیں۔اب اُٹھیے نا۔لوگ دیکھیں تو نہ جانے کیا کیا کہیں گے۔
اس کی آواز سن کر وہ چونک گیا اور اپنے خیالوں کی دُنیا سے لوٹ آیا اسے لگا کہ بہو کے طنز بھرے لہجے میں اکھڑے پن کی نشانی سے کہیں زیادہ حکمانہ انداز زیادہ جھلک رہا تھا۔وہ من ہی من میں سوچنے لگا۔
’’ابھی تو شروعات ہے۔نہ جانے میرے خدا ۔آگے کیا ہوگا۔رحم کر۔‘‘پھر وہ اپنے خیالوں میں کھو گیا اور منہ ہی منہ بڑبڑاتا رہا۔
’’بیٹے اب اٹھ جا۔وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اُڑایا کرتا تھا۔لہذا ہوش کے ناخن لو ۔اب تجھے نئی سوچ نئی بوجھ کے ساتھ نئی دنیا میں نئے سرے سے خودکو ڈھالنا ہوگاورنہ پتہ نہیں کل زمانہ کونسا گُل کھلائے گا۔
’’اباجی!ہم نے فیصلہ لے لیا۔آج سے آپ بچوں کو اپنے ساتھ لے کر انہیں اسکول بس میں چھوڑ کر آئیںگے اور انکے اسکول لوٹنے پر گھر لائیںگے۔مارنگ واک بھی ہوگی ساتھ ہی میں بی پی کا دبائو بھی نارمل رہے گا۔
یہ سن کر یکخت اس پر بجلی گر پڑی اس کی اُمیدوں پر پانی پھر گیا۔اس کا بھرم ٹوٹ گیااور خواب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔
’’کیا سوچا ۔کیا ہوگیا۔‘‘ غصہ سے اس کا چہرہ تمتااُٹھا۔مگر خاموشی کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا۔کیونکہ اس نے چند سال پہلے ہی اس بنگلے کو بیٹے کے نام کردیا تھا۔لہذا وہ صبر وضبط کا گھونٹ پی کر خود کو تسلی دینے کی کوشش کرنے لگا تھامگر دل اندر ہی اندرروُرہا تھا۔
اس نے آنکھیں مونددوسری طرح پھرلیں۔جہاںاس کی مرحوم بیوی کی تصویر دیوار سے ٹنگی مسکرا رہی تھی۔گُھٹی گُھٹی آواز میں صرف اتنا کہاجس میں ساری دنیا کا دکھ سمایا ہوا تھا۔
’’ہوں۔اچھا بیٹی ۔جسیی تم لوگوں کی مرضی۔










