سری نگر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر آغا روح اللہ نے کہا ہے کہ کُل جماعتی میٹنگ میں مدعو کئے گئے سیاسی لیڈران کی شرکت کے بعد جموںوکشمیر کے لوگوں کو کوئی امید باقی نہیں رہی ہے۔ کشمیر نیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہاکہ لیڈران کو اس بات پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے تھا کہ 5اگست سے قبل ہمارے پاس کیا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ ’’ ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا، انہیں کہا گیا کہ وہ حد بندی کے عمل کا حصہ بنیںاور انتخابات کیلئے تیار رہیں لیکن جموں وکشمیر کے لیڈروں نے یہ نہیں کہا کہ 5اگست کو جموںو کشمیر نے کیا کھویا‘‘؟ آغا روح اللہ نے کہاکہ اگرچہ دفعہ370کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن جموںوکشمیر کے لیڈروں کو چنائو سے قبل ریاستی درجہ کی بحالی کی مانگ کرنی چاہئے تھی لیکن انہوںنے اس پر بھی کوئی بات نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ دہلی نے ہمیشہ اٹانومی اور دیگر چیزوں کو لیکر کشمیریوں کو ہمیشہ بیوقوف بنایا اور برابر وہی کوشش ہے تاکہ یہاں چنائو لڑاجائے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ نیشنل کانفرنس مذاکراتی عمل کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور وزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ میں وہ عوامی خدشات اٹھائینگے، آغا روح اللہ نے کہاکہ مذاکرات کا مطلب میٹنگ میں شرکت کرنا نہیں ہے اوردوسرے فریق کی بات سنی جائے بلکہ کسی بھی مذاکراتی عمل میںدوٹوک ایجنڈا ہونا چاہئے اور یہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تم دوسرے فریق کی سنو اور اپنے خدشات کااظہار نہ کرو‘۔










