نئی دلی میں وزیر داخلہ کی صدارت میں جموں کشمیر سے متعلق اعلیٰ سطحی میٹنگ

جموں کشمیر میں حفاظتی اور امن و قانون پر تفصیلی بات چیت، ملٹنسی کے مکمل خاتمہ تک آپریشن جاری رکھنے کی امت شاہ کی ہدایت

سرینگر//امیت شاہ نے جموں و کشمیر سے متعلق سیکورٹی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے والی میٹنگ کی صدارت کی۔اسمبلی انتخابات کے بعد سیکورٹی مسائل پر یہ پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں اعلیٰ فوجی افسران، نیم فوجی دستوں کے افسران، جموں و کشمیر انتظامیہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے افسران موجود رہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جمعرات کو یعنی آج شام جموں و کشمیر کے اہم سیکورٹی مسائل پر ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ کی صدارت کی۔جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔جانکاری کے مطابق اسمبلی انتخابات کے بعد سیکورٹی مسائل کے حوالے سے یہ پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس میں اعلیٰ فوجی افسران، نیم فوجی دستوں کے افسران، جموں و کشمیر انتظامیہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے افسران موجود رہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کی موجودہ صورتحال اور سرحدی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی گئی۔اس موقعے پر وزی داخلہ امت شاہ نے افسران پر زور دیا کہ وہ جموں کشمیر سے ملٹنسی کے مکمل خاتمہ تک اسی طرح ملٹنسی مخال کارروائیاں جاری رکھیں۔ انہوںنے بتایاکہ جموں کشمیر میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امن و قانون کی بالادستی میں کافی بہتری آئی ہے تاہم امن دشمن عناصر ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ جموں کشمیر میں پھر سے امن بگاڑیں اسلئے ہر اس طر ح کی کوشش کوناکام بنانے کیلئے پیشگی اقدامات کئے جائیں ۔ادھر ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی جمعرات کی سہ پہر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ سے قبل وزارت داخلہ پہنچے تھے ۔ میٹنگ میں اہم سیکورٹی خدشات بالخصوص جموں و کشمیر سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ سطحی میٹنگ، بشمول آرمی چیف، جموں و کشمیر کے حکام اور دیگر، دہلی میں میٹنگ کے لیے پہنچے تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلو اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات میٹنگ میں شرکت کے لیے وزارت میں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت میں خطے میں سلامتی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی توقع ہے، جو جموں و کشمیر میں جاری تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ واضح رہے کہ وزیر داخلہ کی میٹنگ اس وقت منعقد ہوئی جب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں فوج اور جنگجوئوں کے مابین ہوئی جھڑپ میں پانچ ملیٹنٹ ہلاک ہوئے ہیںجس کوملٹنسی مخالف آپریشن میں بڑی کامیابی قراردیا گیا ہے ۔