v

نئی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے کام کاج باضابطہ آغاز

کشمیر وادی میں ایس آئی اے کی وسطی و جنوبی کشمیر میں چھاپہ مار کارروائی

سری نگر//سٹیٹ انوسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے جنوبی اور وسطی کشمیر کے مختلف اضلاع میں چھاپوں کے دوران جیش محمد سے وابستہ مبینہ 10 اعانت کاروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔گرفتار افراد میں 2بھائی بھی شامل ہیں جن کے قبضے سے20موبائل فون اور ایک نقلی پستول برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس) کے مطابق ایس آئی اے جس کو حال ہی میں ملی ٹنسی سے متعلق کیسز کی تحقیقات کرنے کے لئے تشکیل دیا گیاہے، کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایس آئی اے نے جنوبی اور وسطی کشمیر کے 3اضلاع میں10 جگہوں پر شبانہ چھاپے مارے۔بیان میں کہا گیایہ چھاپے جیش محمد کے ایک نیٹ ورک پر خصوصی طور مارے گئے اور اس دوران10 افراد جو جیش محمد کے او جی ڈبلیو ماڈیول سے وابستہ تھے اور جیش کے کمانڈروں سے ہدایات حاصل کرتے تھے کو گرفتار کیا گیا‘۔موصوف ترجمان نے کہا کہ اس ماڈیول کا جیش محمد کی اعلیٰ قیادت کی وساطت سے دوسرے ماڈیولز کے ساتھ رابطہ ہوسکتا ہے۔یہ چھاپے کولگام، پلوامہ اور شوپیاں میں مارے گئے۔سرکاری ذرائع نے یا کہ ایس آئی اے نے یہ چھاپے 15 اور 16 فروری کی درمیانی شب کے دوران مارے گئے۔ انہوں نے بتایادس مبینہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں پوچھ گچھ کے لیے دوسری ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔چھاپوں کے دوران پکڑے گئے افراد میں رام نگری شوپیاں کے منظور احمد کسانہ، بون پورہ کولگام کے طارق احمد پڈر، ڈی ایچ پورہ کولگام کے شاہنواز فاروق وانی، خیبت پورہ کولگام کے نثار احمد لون، چکورہ پلوامہ کے شاکر احمد راتھر، عنایت سکندر شامل ہیں۔ اوکے کولگام کے بھٹ، عاقب حسین میر اور وسیم حسن میر، دونوں زون تراگ کھریو پامپور کے رہنے والے اور وقار احمد بھٹ ساکن نئی بگ ترال۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ان 10 افراد سے20موبائل فونز اور ایک ڈمی پستول برآمد کیا گیا ہے۔ ادھر ایک بیان میں کہا گیا: ’اس ماڈیول کا دریافت کیا جانے والا حصہ جنوبی اور اور سطی کشمیر میں دوسرے نوجوانوں کو جنگجوؤں کی صفوں میں بھرتی کرنے، ان کے لئے مالی امداد کا انتظام کرنے اور ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں سرگرم تھا‘۔بیان میں کہا گیا کہ گرفتار شدگان زیادہ تر سکول اور کالج جانے والے طلبا کو جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے راضی کرتے تھے کیونکہ ان میں سے کچھ خود بھی طالب علم ہی ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموںو کشمیر میں مزکورہ ایجنسی کا وجود حال ہی میں عمل میں لایا گیا ہے ۔ اور یہ کارروائی ان کی غالباً پہلی کارروائی ہے ۔