سری نگر//پنجاب کانگریس میں سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں رہا ہے کیوں کہ پارٹی سے ناراض سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے امت شاہ کے بعد قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی جس کے بعد ایک بار پھر سیاسی گلیاروں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہے۔ مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ وہ کانگریس پارٹی چھوڑ رہے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔گزشتہ روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کے بعد کیپٹن امریندر سنگھ نے آج اعلان کیا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا دامن نہیں تھام رہے ہیں بلکہ صرف کانگریس پارٹی سے علیحیدگی اختیار کر رہے ہیں۔بتا دیں کہ حال ہی میں کیپٹن امریندر سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ شاہ سے ملنے کے بعد امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ امت شاہ سے ملاقات کے دوران انہوں نے زرعی قوانین کی وجہ پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں بات کی۔واضح رہے کہ کیپٹن امریندر 18 ستمبر کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد سے کانگریس سے ناراض چل رہے ہیں۔ امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو کے بارے میں خاص طور پر جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے۔امریندر سنگھ کی اجیت ڈوبھال سے ملاقات کے بعد یہ سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے پنجاب کی پاکستان سے جْڑی سرحد پر ڈرون سے ہتھیار گرائے جانے سمیت کئی دیگر سیکورٹی نقاط پر بات کی۔وہیں امریندر سنگھ سے بات کرنے کے بعدقومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال مشاورت کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔ بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیپٹن امریندر سنگھ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر وہ پارٹی میں شامل نہیں ہوتے ہیں تو بی جے پی باہر سے ان کی حمایت کر سکتی ہے۔ تاہم کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کیپٹن نے وزیر داخلہ امت شاہ سے پنجاب میں سیاسی عدم استحکام اور سرحدی علاقے کی سکیورٹی کے حوالے سے ملاقات کی تھی۔










